پاکستان کیساتھ تاریخی، اسلامی اور تجارتی رشتوں پر آنچ نہیں آنے دی جائے گی، افغان قونصلیٹ کوئٹہ

کوئٹہ (آن لائن) افغان قونصلیٹ کوئٹہ کے کمرشل اتاشی ڈاکٹر عبدالحنان ہمت نے کہا ہے کہ طالبان حکومت پاکستان کے ساتھ مثالی تجارتی تعلقات کا خواہاں ہیں،دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے،بادینی بارڈر سے متعلق کابینہ فیصلہ کر چکی ہے اس بابت جلد عملی اقدامات کئے جائیں گے پاکستان اور افغانستان کے مابین تاریخی اسلامی،ثقافتی اور تجارتی رشتوں پر آنچ نہیں آنے دیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے سنیئر نائب صدر حاجی آغا گل خلجی ،نائب صدر سید عبدالاحد آغا و دیگر کے ساتھ ملاقات کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کیا۔اس سے قبل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے عہدیداران و ممبران نے ڈاکٹر عبدالحنان ہمت اور ان کے نائب کو چیمبر آنے پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے تجارت سے وابستہ افراد افغانستان کے ساتھ مثالی تجارتی تعلقات چاہتے ہیں کیونکہ اس وقت دونوں برادر اسلامی ممالک کو معاشی چیلنجرز کا سامنا ہے جسے نکلنے کا واحد راستہ دوطرفہ بارڈر اور بارٹر ٹریڈ کو مزید فروغ دیتے ہوئے اسے مستحکم کرنا ہے، انہوں نے کوئلے اور دیگر تجارتی سامان پر طالبان حکومت کی جانب سے ٹیکسز میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ دوطرفہ تجارت کو فروغ تب ملے گا جب صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کےلئے سہولیات کا سامان کیا جائے گا،انہوں نے پاکستان سے افغانستان برآمد کئے جانے والے گھی کے لیبارٹری ٹیسٹ بارے بھی اپنے تحفظات سے افغان کمرشل اتاشی کو آگاہ کیا اور مطالبہ کیا کہ بادینی بارڈر کو فوری طور پر کھولنے کےلئے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ آمد و رفت سہل ہو اور تجارت کو بھی فروغ ملے۔اس موقع پر افغان قونصلیٹ کوئٹہ کے کمرشل اتاشی ڈاکٹر عبدالحنان ہمت کا کہنا تھا کہ جس بھی ملک میں امن کا قیام ممکن ،کرپشن کا خاتمہ اور ملی وحدت ہو وہاں صنعت و تجارت سمیت دیگر پیداواری شعبہ جات کو ضرور ترقی ملتی ہے افغانستان اور پاکستان کے مابین تاریخی اسلامی،ثقافتی اور تجارتی تعلقات قائم ہیں جن پر کسی صورت آنچ نہیں آنے دیا جائے گا ان کا کہنا تھا کہ طالبان پاکستان مخالف نہیں بلکہ ان کی کوشش ہے کہ پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے اس سلسلے میں اقدامات جاری ہے بلکہ ہمارے آج چیمبر آنے کا مقصد وزارت سے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری بابت آپ سے تجاویز لینا اور سرمایہ کاروں و تجارت پیشہ افراد کے لئے وضع کردہ قواعد و ضوابط جاننا بھی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے برسر اقتدار آنے کے ساتھ ہی برادراسلامی اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی و دیگر طرز کے تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کی ہیں بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہماری حکومت کے دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری بھی آئے گی ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی صنعت و تجارت سے وابستہ افراد نے ہمیں جن مشکلات کی نشاندھی کرائی ہیں ان کے حل کےلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے انہوں نے کہا کہ افغانستان کے کوئلہ ٹیکس میں کمی کر دی گئی ہے مزید بھی اس بابت کوشش کر رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ بادینی بارڈر کی فعالی کے متعلق کابینہ فیصلہ کر چکی ہے بلکہ اس سلسلے میں اقدامات بھی جاری ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دروازے صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کےلئے ہر وقت کھلے ہیں بلوچستان کی تجارت پیشہ افراد کو افغانستان کے ساتھ تجارت میں جن مشکلات کا سامنا ہے وہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے توسط سے ہمیں آگاہ کریں ہم تجارت پیشہ افراد کے مشکلات کے حل کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں