پاکستان میں مغرب کی مادیت پرستی پر مبنی مفاداتی سیاست غالب آگئی، مولانا شیرانی

کوئٹہ (آن لائن) جمعیت کے رہنما مولانا محمد خان شیرانی نے کہاہے کہ سیاست جمعیت کی فکری اساس ہے لیکن ہمارے کچھ دوستوں کی ذہنیت سیاست کو عبادت کے بجائے تجارت سمجھنے کی بن گئی جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ جماعت اپنی سیاست کی جواز اور امتیاز سے محروم ہوگئی بلکہ جماعت کے صفوں سے وحدت اطاعت اور اجتماعیت بھی رخصت ہوگئی ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں اپنی رہائش گاہ میں معروف صحافی سبوخ سید ،فادر سیمی اور روفن بھٹی پر مشتمل کھیتولک مشن کے وفد اور اتحاد القرا پاکستان کے وفد سے الگ الگ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1989 میں سوویت یونین کی تحلیل کے بعد سے دنیا کی سیاست میں یہ تبدیلی واقع ہوگئی کہ دنیا دوقطبی سے یک قطبی ہوگئی جس کی وجہ سے عمومی طور پر سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کا ذہن یہ بن گیا کہ سیاست میں اپنے کردار کو باقی رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ مغرب کا قرب اور امریکہ کی حمایت حاصل کی جائے اور دوسرا اثر یہ مرتب ہوا کہ مارکسزم سوشلزم اور کمیونزم کے تناظر میں دنیا کے سیاسی اور علمی حلقوں میں معاشی اور سیاسی فلسفوں کے حوالے سے دلائل کے تبادلے کا مکالمہ ختم ہوگیا جس کے باعث نظریاتی سیاست کا خلا پیدا ہوگیا اور مغرب کی مادیت پرستی پر مبنی مفاداتی سیاست کو غلبہ ملا انہوں نے کہا کہ اس پس منظر میں مذہبی جماعتوں کی بھی یہ ذہنیت بن گئی کہ ہمارے لئے سیاست میں اپنے آپ کو زندہ رکھنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ قوم کی ہمدردی حاصل کرنے کیلئے زبانی کلامی اسلام کا عنوان استعمال کرتے رہیں جبکہ کردار اور پالیسیاں ایسی ہوں جن کی وجہ سے مغربی دنیا کی سرپرستی حاصل کی جاسکے انہوں نے کہا کہ انسانیت وحدت کی جانب بڑھ رہی ہے اور دنیا عالمی گاں کی شکل اختیار کرچکی ہے یہ دونوں واقعات زمینی حقائق سے بھی مطابقت رکھتے ہیں اور مشروع بھی ہیں البتہ اس عالمی گاں میں حاکم نظم کی نوعیت کیسی ہو اس سوال پر غور کرنے کیلئے ہماری تجویز ہے جس کو میں نے پاکستان میں چین کے سفیر کے ساتھ ملاقات کے دوران ان کے سامنے بھی پیش کی ہے کہ اقوام متحدہ کی سطح پر ایسا جامع اور مشترکہ فورم تشکیل دیا جائے جو دنیا کے تمام تہذیبی نسلی لسانی فکری اور طبقاتی اکائیوں کیلئے یکساں قابل احترام اجتماعی عالمی نظام کے خدوخال طے کرے انہوں نے کہا کہ خدا پرستی میں خالق کی غلامی اور خواہش سے آزادی ہوتی ہے جبکہ ہوا پرستی میں خواہش کی غلامی اور خالق سے آزادی ہوتی ہے آزادی اور غلامی کا تصور دونوں جگہ پایا جاتا ہے البتہ خدا پرستی میں خالق کی غلامی کو ترجیح دی جاتی ہے جبکہ ہوا پرستی میں خواہش کی غلامی کو آزادی کا نام دیا جاتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں