پشتون افغان کی قومی غلامی نے ایک بھیانک شکل اختیار کرلی ہے،خوشحال خان کاکڑ

کوئٹہ (آن لائن)ایک خاص سازش کے تحت پشتون افغان عوام پر تجارت کے دروازے بند کرنے، ملک اور بلخصوص سندھ اور کراچی میں تعصب کی بنیاد پر کریک ڈان، ظلم و زیادتیوں کو مزید برداشت نہیں کیا جائیگا۔ پشتونخوامیپ ہر قسم کی غلامی،استحصال،تعصب اورامتیاز سے پاک اور عوامی حقوق کے حصول اور تحفظ کی سیاست کیلئے قائم کی گئی ہے۔ ملی شہید عثمان خان کاکڑ اور دیگر سیاسی اکابرین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہم اپنے عوام کو کسی موڑ پر بھی مایوس نہیں کریں گے اور عوام کی غمخوار حقیقی سیاسی پارٹی کا کردار ادا کرینگے۔ ان خیالات کا اظہار پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے پشتون باغ علاقائی کانفرنس سے اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ کانفرنس سے مرکزی سینئر سیکریٹری سید قادر آغا، مرکزی سیکریٹری اطلاعات محمد عیسی روشان، صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے صوبائی سیکرٹری مالیات علی محمد ترین، صوبائی آفس سیکرٹری ندا خان سنگر نے خطاب کیا جبکہ سٹیج کی نظامت کے فرائض صوبائی ڈپٹی سیکریٹری باز پشتون نے نبھائے۔ کانفرنس میں پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز رحمت صابر،رزاق خان بڑیچ، پروفیسر اسد ترین،احمد خان لونی، عبد الفیاض،قیاس افغان، احسان آغا، مرکزی کمیٹی کے اراکین گل کاکڑ، ظہور اففان، ملک فرید، سعید اللہ کاکڑ، ملک گران، اکبر کلیوال اور باچا خان کاکڑ نے شرکت کی۔ کانفرنس میں سیاسی اور تنظیمی رپورٹ پیش کی گئی اور کانفرنس کے مندوبین نے اسکی منظور دی۔ نومنتخب علاقائی سیکرٹری رفیع اللہ چرمئی، سنیئر معاون ملک شمس الدین سمیت ایگزیکٹیوز سے پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے حلف لیا۔ مقررین نے کہا کہ ہمارے اکابرین نے ہمارے لیے سیاست کے جس راستے کا تعین کیا ہے اس سیاست میں ذاتی اور خاندانی مفادات حاصل کرنے کی کوئی جگہ نہیں بلکہ ہمارے سیاست کا محور عوام اور عوامی مفادات ہیں جسکے لیے دن رات جدوجہد کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں پشتون افغان کی قومی غلامی نے ایک بھیانک شکل اختیار کرلی ہے پہلے پشتونخوا وطن پر دہشتگردی مسلط کرکے ہمارے عوام کو اپنے علاقوں سے زبردستی بےدخل کیا گیا اور جب دہشتگردی کے ستائے ہوئے عوام نے انتہائی مجبوری میں اپنے جنت نظیر وطن چھوڑ کر ملک کے دیگر علاقوں میں پناہ اور دو وقت کی روٹی کمانے کیلئے سکونت اختیار کی تو انکے خلاف ملکی آئین و قانون کے ماورا ناجائز اقدامات شروع کر دیئے گئے ہیں اور آئے روز مختلف حیلے بہانوں کے ذریعے پشتون افغان عوام کو تنگ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان میں جنگ سے بیزار اور سرپناہ کی تلاش میں آئے مجبور خاندانوں اور افراد کو اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ کارڈز رکھنے کے باوجود انکے خلاف کریک ڈان کیا جارہا ہے اور چھوٹے بچوں، خواتین اور ضعیف افراد کو بھی نہیں بخشا جارہا جبکہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان لاچار اور مسافر عوام سے بھاری رقوم طلب کرکے انہیں لوٹا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں