گورنر جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر کے ملازم دشمن رویے کا نوٹس لیں، جوائنٹ ایکشن کمیٹی
کوئٹہ(آن لائن)جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان نے بروز سوموار کو بھی اپنے جائز اور منظور شدہ مطالبات کے لئے جامعہ بلوچستان کے ایڈمن اور ایگزامیمشن بلاک احتجاجا بند رکھا اور ایڈمن بلاک کے سامنے احتجاجی مظاہرہ زیرصدارت پروفیسر ڈاکٹرکلیم اللہ بڑیچ منعقدھوا، ،احتجاجی مظاہرے سے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ، شاہ علی بگٹی، نذیراحمدلہڑی، فریدخان اچکزئی پروفیسرارسلانشاہ، گل جان کاکڑ ، سید محبوب شاہ اور سیدشاہ بابر نے خطاب کیا جبکہ حافظ عبدالمنان نے تلاوت کلام پاک سے جلسے کا آغاز کیا۔ مقررین نے کہاکہ جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر اور دیگر انتظامی آفیسران شعوری طور پر منظور اور طے شدہ پوائنٹس کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کررہے ہیں حالانکہ ان تمام پر پچھلے کامیاب احتجاج کے نتیجے میں تحریری معاہدہ کیا گیا جس پر وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر، ٹریڑار، رجسٹرار اور ایک ڈین نے دستخط کئے لیکن اب تحریری معاہدے پر عملدرآمد کرانے سے کترا رہے ہیں اور ایسا عمل دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے جسکی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔مقررین نے بیوٹمز سٹاف ایسوسی ایشن کے مطالبات کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا اور بیوٹمز کے وائس چانسلر، پرو وائس پر کڑی تنقید کی کہ وہ جائز مطالبات تسلیم اور حل کرنے کے بجائے اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین کو بیوٹمز کے سامنے دھرنا دینے پر مجبور کیے اگر بیوٹمز کے اساتذہ آفیسرزاور ملازمین کو کچھ ھوا تو پورے صوبے اور ملک کی جامعات میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔مقررین نےزور دے کر کہا کہ ہم ہر صورت میں منظور اور طے شدہ پوائنٹس پر عملدرآمد کراکر دم لینگے۔مقررین نے گورنر بلوچستان و نگران وزیر اعلی سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر اور دیگر کے ملازمین دشمن روئیے کا نوٹس لے کر انہیں تحریری معاہدے پر عملدرآمد پر پابند کریں۔مقررین نے کہا کہ پرموشن ،آپ گریڈیشن، ٹائم اسکیل، ٹیچرز ہاسٹل میں عارضی طور پر رہائش پذیر اساتذہ کرام اور آفیسران سے کمروں کی ماہانہ کرایوں، فوت شدہ ملازمین کے لواحقین کی تعیناتی کے نوٹیفیکیشن، کالونی میں رہائش پذیر اساتذہ اور آفیسرز سے 5 فیصد کٹوتی، ڈی آر اے سمیت تمام بقایاجات کی ادائیگی، میڈیکل بلز کی ادائیگی، تینوں ریسرچ سینٹرز کے اساتذہ اور ملازمین کو اضافہ شدہ 35 فیصد تنخواہوں سمیت ہاوس ریکوزیشن کی بقایاجات سمیت ادائیگی اور پینشنرز کو پینشنز کی بروقت ادائیگی اور میٹرک پاس کلاس فور ملازمین کو صوبائی حکومت کی نوٹیفکیشن کے مطابق جونیئر کلرک بنانے کے حوالے جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے کئے گئے تحریری معاہدے پر عملدرآمد سے ہی یونیورسٹی آف بلوچستان کے اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین میں بے چینی ختم ھوسکے گی۔ مقررین نےکہا کہ جامعہ بلوچستان کی انتظامیہ کی ملی بھگت سے واپڈا کے اہلکاروں نے غیر قانونی طور پر بجلی کے میٹرز بلاجواز نکال کر چرا کر لے گئے۔ مظاہرین نے اعلان کیا کہ بروز منگل کو بھی ایڈمن اور ایگزامیمشن بلاک احتجاجا بند رکھا جائے گا اور ایڈمن بلاک کے سامنے بڑا احتجاجی مظاہرہ ھوگا ،تمام اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین سے اپیل کی کہ وہ اپنے منظور شدہ مطالبات کے لئے احتجاجی مظاہرے میں بھرپور انداز میں شرکت کریں۔


