فلسطینیوں کی نسل کشی، اسرائیلی بمباری میں ایک ہی خاندان کے 13 افراد جاں بحق

غزہ (مانیٹرنگ ڈیسک) غزہ میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے اور اس حوالے سے متعدد دلخراش رپورٹس سامنے آچکی ہیں۔ اب ایک نئی رپورٹ میں غزہ کے ایک خاندان کی شہادت کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے 13 اکتوبر کو غزہ کے شہریوں کو وسطیٰ علاقہ خالی کرکے جنوب میں جانے انتباہ کیا گیا تھا۔ اس مقصد کے لیے اسرائیل نے فضا سے پمفلٹ غزہ میں گرائے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ غزہ کے شہری فوری طور پر اپنے گھر چھوڑ کر غزہ کے جنوب میں چلے جائیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹ میسجز اور فون کالز کے ذریعے بھی اسرائیلی فوج نے غزہ کے شہریوں کو دھمکایا تھا۔ اسرائیل کے انتباہ پر چند فلسطینی شہری جنوبی غزہ کی جانب روانہ ہوئے تو ان کے ساتھ وہی ہوا جس سے بچنے کے لیے وہ وہاں پہنچے تھے، اسرائیلی فضائی حملے میں وہ شہید ہوگئے۔ ان شہادتوں سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ غزہ کے جنوب میں پہنچنے سے شہریوں کے تحفظ کی ضمانت نہیں ملتی بلکہ فلسطینیوں کے لیے اسرائیلی بمباری سے بچنے کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں۔ 13 اکتوبر کی صبح عاد الجرمی اور ان کے بھتیجے راضی الجرمی کو ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار کی جانب سے فون کال موصول ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر فوری طورپر جنوب میں چلے جائیں۔ راضی الجرمی نے امریکی میڈیا سے اس فون کال کی آڈیو ریکارڈنگ بھی شیئر کی جس میں اسرائیلی فوجی عہدیدار بات کر رہا تھا۔ راضی الجرمی کو جب یہ احساس ہوا کہ یہ فون کال کس کی ہے تو انہوں نے فوری طور پر اسے ریکارڈ کرلیا تاکہ خاندان کے دیگر افراد سے شیئر کرسکے۔ ریکارڈنگ میں وہ فوجی عہدیدار کہہ رہا تھا کہ ‘تم سب جنوب میں چلے جاو¿، اپنا سارا سامان سمیٹ کر فوری طور پر وہاں جاو¿’۔ عاد الجرمی نے جب پوچھا کہ وہاں جانے کے لیے کونسا راستہ محفوظ ہوگا اور کس وقت جانا بہتر ہوگا تو اسرائیلی فوجی نے کہا کہ ‘راستے اور وقت کی پروا مت کرو، جتنی جلد ہو وہاں منتقل ہو جاو¿ کیونکہ اب وقت باقی نہیں رہا’۔ عاد الجرمی نے اس دھمکی کے بعد 13 اکتوبر کو اپنے خاندان کے ساتھ غزہ کے جنوبی حصے میں Deir Al Balah نامی علاقے میں اپنے دوستوں کے پاس رہنے چلے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں