کنٹریکٹ پر تعینات وائس چانسلر کے من پسند ریٹائرڈ افسران اور ملازمین کو فارغ کیا جائے، ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان

کوئٹہ (آن لائن) جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے زیر اہتمام جمعرات اٹھارویں روز کو بھی اپنے جائز اور منظور شدہ مطالبات کے لئے جامعہ بلوچستان کے ایڈمن اور ایگزامیمشن بلاک احتجاجا بند رہا اور آفیسران و ملازمین کی طرف سے قلم چھوڑ ہڑتال جاری ریا اور ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ آرٹس بلاک اور پاکستان سٹڈی سینٹر اور ریسرچ سینٹرز اور سائنس بلاک میں ھوا ،مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں زبردست نعرے بازی کی اور آخر میں وائس چانسلر سیکرٹریٹ کے سامنے ایک بڑے احتجاجی جلسے میں تبدیل ھوا۔احتجاجی جلسہ زیرصدارت پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ منعقد ھوا ،احتجاجی جلسے سے ، پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، ، شاھ علی بگٹی،نذیر احمد لہڑی، نعمت اللہ کاکڑ، گل جان کاکڑ سید محبوب شاھ، حافظ عبدالقیوم، اسحاق پرکانی نے خطاب کیا، تلاوت قرآن پاک کی سعادت حافظ عبدالمنان کو حاصل ھوئی، مقررین نے کہاکہ ھم کسی صورت اپنے جائز اور منظور شدہ پوائنٹس سے دستبردار نہیں ہونگے انہوں نے کہا کہ جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر، رجسٹرار، ٹریڑار اور ایک ڈین نے طے اور منظور شدہ مطالبات کے حوالے سے تحریری معاہدہ کیا لیکن اب تحریری معاہدے پر عملدرآمد درآمد نہیں کررہے ہیں۔ مقررین نےکہا کہ ایک طرف ملازمین کو انلکے منظور شدہ الاونسز سے محروم رکھا ہیں جبکہ دوسری طرف وائس چانسلر نے من پسند ریٹائرڈ آفیسران اور چند ملازمین کو کنٹریکٹ پر تعینات کیا جس پر لاکھوں روپے ماہانہ فضول خرچ ہورہے ہیں۔ مقررین نے کہاکہ ملک بھر کے ریسرچ سینٹرز بشمول جامعہ بلوچستان کے تینوں ریسرچ سینٹرز کے اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین کو انکی مکمل تنخواہوں سے محروم رکھا گیا ہیں اور انہیں اس سال اضافہ شدہ 35 فیصد اور ہاوس ریکوزیشن سے پچھلے دو سالوں سے محروم رکھا گیا، مقررین نے اعلان کیا کہ ریسرچ سینٹرز کی مکمل تنخواہ بشمول ہاوس ریکوزیشن ، ڈسپیریٹی ریڈکشن الاونسز اور اضافہ شدہ 35 فیصد کےلئے پورے ملک کے جامعات کے ریسرچ سینٹرز میں زبردست احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔مظاہرین نے کہاکہ بروز جمعہ کو بھی ایڈمن اور ایگزامیمشن بلاک احتجاجا بند رکھا جائے گا اور ایڈمن سے ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ نکالا جائے گا جو مختلف شعبہ جات سے ھوتے ھوئے ایڈمن بلاک کے سامنے بڑا احتجاجی جلسے میں تبدیل ھوگا ،تمام اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین سے اپیل کی کہ وہ اپنے منظور شدہ مطالبات کے لئے احتجاجی مظاہرے میں بھرپور انداز میں شرکت کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں