وفاق کی سپورٹ کے بغیر سمندر میں غیر قانونی ٹرالنگ کو روکنا مشکل ہے، سیکرٹری فشریز

گوادر (آن لائن) سیکرٹری فشریز عمران گچکی نے کہا ہے کہ غیرقانونی ٹرالنگ کے خلاف وفاق اور صوبہ اب ایک پیج پر آچکے ہیں، نئی میکنزازم بنارہے ہیں جب تک وفاق کا سپورٹ حاصل نہ ہو غیرقانونی ٹرالنگ کو روکنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہاکہ پسنی فش ہاربر اتھارٹی کی جیٹی کو ری ڈیزائین اور ری ماڈلنگ کرنے کے لیئے کام کرینگے پسنی فش ہاربراتھارٹی کے ملازمین کی تنخوائیں بہت جلد ریلیز کی جائینگی ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دورہ پسنی کے موقع پر ڈی جی فشریز یونس سنجرانی کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ غیرقانونی ٹرالنگ ایک سنجیدہ ایشو ہے اور کافی سالوں سے چلی آرہی ہے لیکن موجودہ حکومت نے اس ایشو کو ابھی سنجیدہ بنیادوں پر لیا ہے انہوں نے کہاکہ آئندہ ہفتے اسلام آباد میں ایک اعلی سطع کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں چیف سیکرٹری بلوچستان منسٹری آف ڈیفنس اور بحثیت سیکرٹری فشریز بلوچستان میں بھی شریک ہوں اس اجلاس میں غیرقانونی ٹرالنگ کی روک تھام کے لیئے نئے میکنزازم کے تحت کام کی شروعات کیا جائے گا غیرقانونی ٹرالنگ کا ایشو ایک عذاب بن چکا ہے اس کو کا?نٹر کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ غیرقانونی ٹرالنگ کے خلاف اسطرح کے اقدامات پہلے نہیں اٹھائے گئے لیکن ابھی نگراں حکومت میں اس کے خلاف اقدام اٹھایا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ وزیراعظم پاکستان انوارالحق کاکڑ اور چیف سیکرٹری بلوچستان اس مسلئے پر انتہائی سنجیدگی سے کام کررہے ہیں اور مسلہ اب وفاقی لیول تک چلا گیا ہے سن آف ساحل کے تحت یہاں کے ماہی گیروں سے رابطہ کاری کا عمل شروع کردی گئی ہے انہوں نے کہاکہ وہ وفاقی ادارے جو ملکی سمندری حدود کی تحفظ کے لیئے کام کررہے ہیں اگر وہ شامل نہ ہوں تو یہ مسلہ حل نہیں ہوگا انہوں نے کہاکہ فشریز ڈیپارٹمنٹ کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ اتنے بڑے ٹرالر کا مقابلہ کرسکیں اور آجکل یہ ٹرالر گروپ کی شکل میں آتے ہیں اور محکمہ فشریز کے اہلکاروں پر حملہ بھی کرتے ہیں ان پر گولیاں چلاتے ہیں انہوں نے کہا فشریز افسران اپنے دستیاب وسائل کی بنیاد پر کام کررہے ہیں لیکن اسکی مربوط روک تھام اس وقت ممکن ہے جب وفاقی ادارے بھی اس پر کام کریں پسنی فش ہاربر جیٹی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ یہاں ماہی گیروں کی سہولیات کے لیئے بنائی گئی تھی لیکن اب یہ سب کے لیئے دردسربن چکی ہے اسکے ملازمین کو بھی تنخوائیں نہیں مل رہی ہیں ماضی میں اسکی ڈیزائین اس قدر غلط بنائی گئی کہ اس میں وقتا فوقتامٹی آجاتی ہے انہوں نے کہا جب نواب محمداسلم رئیسانی وزیراعلی بلوچستان تھے پسنی فش ہاربر اتھارٹی کے اندر تجازوات کے خلاف کاروائی کی گئی کیونکہ پسنی جیٹی پر قابضین بیٹھے ہیں انہوں نے کہا کہ پسنی فش ہاربر کا دیرینہ مسلہ ہے اسکا حل یہ نہیں ہے کہ اسے ختم کیاجائے یا اسے کسی دوسرے ادارے میں ضم کیا جائے اسکی بحالی کے لیئے ہماری ٹیم کام کررہی ہے اسکی ری ڈیزائنگ اور ری ماڈلنگ پر کام ہورہا ہے ہاربر ملازمین کے تنخواہوں کے حوالے سے سیکرٹری فشریز بلوچستان نے کہاکہ فنانس ڈیپارٹمنٹ بلوچستان سے بات ہورہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں