سی پیک پروجیکٹ سے کوئی تعلق نہیں، کیچ کے مقام پر جلائی گئی گاڑی کے نقصان کا ازالہ کیا جائے، تاجر

کوئٹہ ( این این آئی) کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے تاجروں نے کہا ہے کہ 3نومبر کو کیچ کے مقام پر پیش آنے والے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بے بنیاد خبریں چلائی جا رہی تھیں ہم واضح کر تے ہیں کہ ہمارا سی پیک پروجیکٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے، نگراں حکومت بلو چستان اور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ سے مطالبہ ہے کہ ہمیں تحفظ اور کیچ کے مقام پر جلائی گئی گاڑی کا ازالہ کیا جائے۔ یہ بات سید علی اور حاجی سفر محمد نے پیر کوکوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ ہماری کمپنی رمضان اینڈ کمپنی کے نام سے رجسٹر ڈ ہے اور ہم باقاعدہ طور پرٹیکس بھی جمع کرتے ہیں ، 03نومبر 2023 بروز جمعہ کو ہماری لوڈ گاڑی تربت سے کوئٹہ آرہی تھی کہ راستے ہیں ہوشاب کیچ کے علاقے میں 2نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے گاڑی کا راستہ روکاجب نا معلوم افراد سے گاڑی کو روکنے کی وجہ پوچھی گئی توانہوں نے ڈرائیور اور کلینڈر کو تشدد کا نشانہ بنا یا اور ڈرائیور ،کلینڈر کو گاڑی سے اتار کر گاڑی کے ٹائروں پر فائرنگ شروع کر دی جس کی وجہ سے گاڑی کے تمام ٹائریں برسٹ ہو گئے اور گاڑی کو آگ لگا دی جس سے گاڑی سمیت تمام سامان جل کر راکھ ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر خبریں چل رہی تھی کہ یہ گاڑی پاکستان اکنامک کوریڈور سی پیک کے پروجیکٹ کے لئے سامان فراہم کرنے کیلئے جارہی تھی جو کہ سراسر جھوٹ اور بے بنیاد خبریں ہیں ہمارا سی پیک پروجیکٹ سے کوئی تعلق یا واسطہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے پہلے بلوچستان میں کاروبار نہیں ہے اوپر سے ہم کاروباری حضرات اس طرح کی مشکلات سے دو چارہیں جس کی وجہ سے ہم ذہنی کوفت کا شکار ہو چکے ہیں ہماری کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف، چیف جسٹس آف پاکستان ،نگران وزیراعلی بلوچستان اورچیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں تحفظ اور کیچ کے مقام پر جلائی گئی گاڑی کا ازالہ کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں