بنگلا دیش حکومت کا اجرتوں میں اضافے سے انکار، مزدوروں کے احتجاج کے باعث 130 فیکٹریاں بند

ڈھاکہ (این این آئی)بنگلہ دیش میں مزدوروں کے احتجاج کے دوران 130 فیکٹریاں بند ہوگئیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق خبررساں ادارے کے مطابق صنعتی پولیس کے ایک سپرنٹنڈنٹ محمد سرور عالم نے میڈیا کو بتایا کہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے مضافات میں دو بڑے صنعتی مراکز ساور اور اشولیہ میں کل 130 ریڈی میڈ گارمنٹ(آر ایم جی)فیکٹریوں نے زیادہ اجرت کے لیے جاری کارکنوں کے احتجاج کی وجہ سے کام غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مزدوروں نے حکومت کی جانب سے اجرتوں میں 56 فیصد اضافے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے اپنا احتجاج جاری رکھا، مزدورو ں کے مظاہروں میں مبینہ طور پر کاروں اور فیکٹریوں کی توڑ پھوڑ کی گئی ، ڈھاکہ اور آس پاس کے علاقوں میں پولیس اور کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈھاکہ اور اس کے آس پاس کے بڑے صنعتی علاقوں میں نیم فوجی دستوں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب واشنگٹن نے احتجاجی ورکرز کے خلاف تشدد کی مذمت کی ہے، بنگلہ دیش میں تیار کردہ ملبوسات کے سب سے بڑے خریداروں میں سے ایک امریکا نے مناسب اجرت دینے کا مطالبہ کیا ہے جو مزدوروں اور ان کے خاندانوں کو درپیش بڑھتے معاشی دبا سے محفوظ رکھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں