پاکستان بھر میں بوتل بند پانی کے 25 برانڈز مضر صحت قرار، عوام کو استعمال نہ کرنیکی ہدایت

کوئٹہ(آن لائن) پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (PCRWR) منسٹری آف واٹر ریسورسز پاکستان کی جاری کردہ حالیہ سہ ماہی رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر کے 20 مختلف شہروں سے حاصل کردہ بوتل بند پانی کے 197 برانڈز میں سے 25 برانڈز انسانی صحت کے لیے غیر محفوظ قرار دئیے گئے ہیں۔ متعلقہ اداروں کی جانب پیش کردہ لیبارٹری ٹیسٹ رپورٹس کے مطابق بیشتر کمپنیوں کے بوتل بند پانی میں سوڈیم اور پوٹاشیم کی مقدار مقررہ حد سے زائد پائی گئی، تین کمپنیوں کے سیمپلز کا TDS لیول زیادہ جبکہ کچھ نمونوں میں حیاتیاتی جراثیم کی موجودگی کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ غیرمحفوظ قرار دئیے گئے برانڈز میں قدرت واٹر، نیچرل، پریمیئم صفا پیوریفائڈ واٹر، زیڈ پیور ڈرنکنگ واٹر، بیسٹ نیچرل، کلیئر، سونا واٹر لائف پیور ڈرنکنگ واٹر، پیور اینڈ ہیلدی الکلائن واٹر، ایکوا 100, ایلسٹین، آب حرم، خضر پیور واٹر، فائن، بارسے، آب مسکان، آب حیات، انڈس، اوسلو، فریش اسمارٹ پیور واٹر، امپیرئیل، آئس ویل، بیسٹ نیچرل، پیور لائف، ایکوا گولڈ، سپرنگ پیور واٹر نامی برانڈز (کمپنیاں) شامل ہیں۔ ٹیسٹ کردہ پانی کے نمونوں میں موجود سوڈیم کی زائد مقدار بلڈ پریشر میں اضافے کا باعث بنتی ہے، جبکہ پوٹاشیم کی زیادتی گردوں کے افعال کو متاثر کرسکتی ہے۔ ترجمان بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے مطابق ناقص اور غیر رجسٹرڈ برانڈز کا بوتل بند پانی عموماً دوردراز علاقوں ، چھوٹی دکانوں، ہسپتالوں کے باہر، ہوٹلوں، پارکس یا تفریحی مقامات پر فروخت ہوتا ہے جو لوگوں کی صحت کیلئے خطرہ ہے۔ عوام الناس مضر قرار دی گئی کمپنیوں کی بوتل بند پانی کے استعمال سے اجتناب کریں۔ غیرمعیاری قرار دئیے گئے تمام برانڈز کی فروخت کی بلوچستان بھر میں بھی ممانعت ہے۔ اس ضمن میں بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جانب سے کاروباری حضرات کو تنبیہ کی گئی ہے کہ بیان کردہ کمپنیوں کے غیر معیاری بوتل بند پانی کی خرید و فروخت سے گریز کریں بصورت دیگر قوانین کی خلاف ورزی پر مراکز و ذمہ داران کے خلاف بلوچستان فوڈ اتھارٹی سخت قانونی کارروائی کی مجاز ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں