بالاچ کا ماورائے عدالت قتل، ایس ایچ او تربت اور سی ٹی ڈی اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج

تربت (انتخاب نیوز) تربت میں مبینہ سی ٹی ڈی مقابلے میں ہلاک نوجوان بالاچ مولابخش کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ نوجوان کی ہلاکت کے خلاف لواحقین نے کئی روز تک تربت میں احتجاج کیا۔ پولیس کے مطابق مقدمہ پولیس اسٹیشن تربت میں مقتول بالاچ مولابخش کے والد کی مدعیت میں ایس ایچ او اور دیگر سی ٹی ڈی ریجنل آفیسر، ایس ایچ او ، تفتیشی آفیسر اور انچارج لاک اپ کےخلاف درج کیا گیا۔یاد رہے کہ سیشن جج تربت نے بالاچ مولا بخش کے قتل کا مقدمہ سی ٹی ڈی اہلکاروں کے خلاف درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ مبینہ سی ٹی ڈی مقابلے میں نوجوان کی ہلاکت کے کیس میں انچارج انوسٹی گیشن نور بخش تفتیشی افسر مقرر کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ پولیس مقابلہ میں نوجوان بالاچ کی ہلاکت کے واقعہ پر اہلخانہ اور سول سوسائٹی نے میت کے ہمراہ 23 نومبر کو تربت میں احتجاج شروع کیا اور یہ احتجاج کئی روز تک مسلسل جاری رہا۔ مظاہرین نے واقعہ میں ملوث اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کرنے اور انکوائری کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ بالاچ 29 اکتوبر کو تربت میں اپنے گھر سے لاپتہ ہوگیا تھا، جس کی ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی تھی، بعد ازاں بالاچ کو 21 نومبر کو جوڈیشل عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ بعد میں بالاچ سمیت چار افراد کی لاشیں سول اسپتال تربت لائی گئی تھیں۔ سی ٹی ڈی حکام نے چاروں افراد کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔ 28 نومبر کو بلوچستان حکومت نے تربت واقعے اور نوجوان کی ہلاکت کے خلاف احتجاج پر نوٹس لیتے ہوئے سی ٹی ڈی کے مبینہ مقابلہ کی تحقیقات پر انکوائری ٹربیونل تشکیل دیا، اور سیکرٹری فشریز عمران گچکی کو انکوائری آف ٹربیونل کا چیرمین مقرر کیا گیا۔ اس حوالے سے سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت نے تربت واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے تربت واقعہ میں سی ٹی ڈی کے مبینہ مقابلہ کی تحقیقات کا فیصلہ کیا، اور سیکرٹری فشریز کی سربراہی میں انکوائری ٹربیونل تشکیل دیا۔ سیکرٹری فشریز عمران گچکی کی سربراہی میں انکوائری آف ٹربیونل میں ڈی آئی جی کوئٹہ، ایس ایس پی گوادر اورڈی سی کیچ کو بطور ممبران شامل کیا گیا۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی 15 دنوں میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں