بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جدوجہد پرامن ہے، تشدد سے روکنا قابل مذمت ہے، آل پارٹیز کیچ

تربت(نمائندہ انتخاب) آل پارٹیز کیچ کا اجلاس کنوینئر سیدجان گچکی کی زیر صدارت میں منعقد ہوا،اجلاس میں گزشتہ دنوں اسلام آباد میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پرامن احتجاجی مظاہرے کے شرکائ پر تشدد اور گرفتاریوں کی مذمت کی گئی اور مطالبہ کیاگیاکہ نگران حکومت نے ابھی تک بالاچ کے لواحقین کو امصاف فراہم نہیں کیاہے،آل پارٹیز کیچ نے کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جدوجہد ایک پرامن جدوجہد ہے جسے تشدد کے زریعے کچلنے کی کوششیں قابل مذمت ہیں،انہوں نے کہاکہ وہ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ وانکے دیگر ساتھیوں کے اس پرامن جدوجہد کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور اس جدوجہد پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں،آل پارٹیز کیچ نے اپنے بیان میں مزیدکہاکہ لانگ مارچ کے شرکائ اور انکے استقبال کیلئے آنے والوں کو بلاوجہ ایف آئی آر کرنا اور انکے احتجاج کو روکنے کی کوشش کرنا بھی قابل مذمت ہے اور جہاں جہاں شرکائ پر جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات قائم کیے گئے ہیں وہ قابل مذمت ہیں،بلوچ یکجہتی کمیٹی کو پورے قوم کی حمایت حاصل ہے ریاستی ادارے آئین وقانون سے بالاتر نہیں انہیں آئین وقانون کے مطابق بلوچ عوام کے ساتھ رویہ اپنانا ہوگا اگر جبر کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو اسکے نتائج بھی خطرناک ثابت ہونگے،آج پوری دنیا میں اسلام آباد پولیس جگ ہنسائی بن چکی ہے،اسلام آباد کارویہ بلوچ وبلوچستان کے بارے میں ابھی تک نہیں بدلاہے بلکہ ہر آنے والے دن میں اس رویہ میں شدت آرہی ہے جبکہ اس سے محکوم ومظلوم آوازوں کو نہیں کچلا جاسکتا ہے،آل پارٹیز کیچ کامطالبہ ہیکہ بالاچ کے لواحقین کو مکمل انصاف فراہم کرکے اس قتل کی جوڈیشل انکوائری کی جائے اور بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین پر تشدد کو گرفتار یوں میں ملوث اہلکار واسلام آباد پولیس کے افسران کو بھی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیاجائے اور تمام لاپتہ افراد کو بھی رہا کیا جائے.اجلاس میں آل پارٹیز کیچ کے کنوینر سید جان گچکی، نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر مشکور انور ایڈووکیٹ، پیپلز پارٹی کے رہنمائ نواب خان شمبے زئی،جماعت اسلامی کیچ کے امیر واجہ غلام یاسین بلوچ مرکزی جمعیت اہل حدیث کیچ کے رہنمائ یلان زامرانی ودیگر شریک تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں