چمن میں ڈرائیوروں کو یرغمال بنا رکھا ہے، حکومت کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہیں، آئل ٹینکرزیونین
مستونگ (یو این اے) چیئرمین آل پاکستان آئل ٹینکر ایسوسی ایشن میر شمس شاہوانی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پرلت بارڈر پر 80 دنوں سے پھنسی گاڑیوں کے ڈرائیورز بھوک افلاس اور سخت سردی میں لغڑیوں نے حکومت کی رٹ کو چیلنج کرکے یرغمال بنائے رکھا ہے لغڑیوں کے ڈرائیورز پر تشدد اور گاڈیوں کو نقصانات پہنچانے سے انکے اس غیر قانونی اقدام سے ٹرانسپورٹرز میں شدید غم غصہ پایا جاتا ہے حکومت بلوچستان لغڑیوں کے سامنے بےبس دکھائی دے رہی ہے حکومت کے رٹ اور ہماری گاڑیوں پر سیاست کو ختم کیا جائے ہم ہمیشہ اسٹیٹ کی پالیسی پر چلتے آرہے ہیں اب صبر کا پیمانہ تھامے رکھا ہے 4000 ہزار سے زائد گاڑیوں کے روکے رکھنے سے ایک لاکھ لوگوں کے گھروں میں فاقہ کشی چل رہی ہے غریب ڈرائیورز نے زیور زمین اور گھر بھیج کر قسطوں میں گاڑیاں لی ہیں جن کی قسطیں چڑھ گئی ہیں ہم چیف آف آرمی اسٹاف سے آخری امید رکھتے ہیں کہ وہ اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بحفاظت گاڈیوں کو کوئٹہ پہنچانے کیلئے اقدامات اٹھائینگے لغڑیوں کے اس انسانیت سوز اقدام سے معاشی قتل عام ہورہا ہے وہ اپنے مقاصد پورے کرنے کے لیے محب وطن ٹرانسپورٹرز کے بچوں کا روزی روٹی چھین کر سیاست چمکانے میں مصروف ہیں انھوں نے کہا ہے کہ شدید سردی اور تشدد سے ڈرائیورز بیمار پڑے ہیں انہوں نے خبردار کیا کہ ڈرائیوروں سے روزانہ 1000 روپے بھتہ وصولی بند کیا جائے حکومت بلوچستان ٹرانسپورٹرز کے نقصانات کا ازالہ کرکے انہیں معاوضہ ادا کرے بصورت دیگر 3 دن گزرنے کے بعد ہمارے مطالبات پورے نہ ہونے پر پورے ملک میں ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام کرینگے جس میں کسی بھی نقصان کی ذمے داری حکومت پر عائد ہوگی۔


