امریکہ اور برطانیہ نے یمن میں جنگ کا نیا محاذ کھول دیا،حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے
صنعائ/واشنگٹن/لندن/ریاض(صباح نیوز)امریکا اور برطانیہ نے یمن میں جنگ کا نیا محاذ کھول دیا ہے، امریکا اور برطانیہ نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کر دیئے گئے۔ دارالحکومت صنعا اور دیگر شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکا اور برطانیہ نے حوثیوں کے ٹھکانوں اور کشتیوں سمیت متعدد اہداف کو نشانہ بنایا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے حوثی شہر الحدیدہ اور حجہ سے لوگوں نے انخلا شروع کردیا ہے۔ یمن سے سامنے آنے والے مناظر میں کئی مقامات پر بمباری سے شعلے بلند ہونے دیکھے جا سکتے ہیں، حملوں میں ٹام ہاک میزائلوں کا بھی استعمال کیا گیا۔حملوں کے بعد بیان میں امریکا کے صدر بائیڈن نے کہا کہ یہ حملے بحر احمر میں بین الاقوامی جہازوں پر ان حملوں کا جواب ہیں جن میں پہلی بار اینٹی شپ بیلسٹک میزائل بھی استعمال کیے گئے تھے۔ برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے رات گئے حوثیوں پر حملوں سے متعلق اپنی کابینہ کو آگاہ کیا تھا۔پنے بیان میں برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے کہا کہ حوثیوں کو جہازوں پر حملوں سے کئی بار خبردار کیا گیا تھا اور یہ صورتحال برداشت نہیں کی جاسکتی تھی۔ وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جان کربی نے گزشتہ روز حوثیوں کو نتائج بھگتنے کی دھمکی دی تھی۔ اس دھمکی کے کچھ ہی دیر بعد حوثیوں نے ایک تجارتی جہاز پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد یمن پر بمباری شروع ہو گئی۔ دوسری جانب حوثیوں نے امریکا اور برطانیہ کو منہ توڑ جواب دینے کا اعلان کردیا۔ انقلابی رہنما عبدالمالک بدرالدین الحوثی نے کہا ہے فلسطینیوں کے لیے امریکا، برطانیہ اور اسرائیل سے لڑنے کے لیے تیار ہیں، ہمارا ردعمل امریکی حملوں سے کہیں زیادہ تباہ کن ہوگا، ڈرونزاور میزائلوں سے بحیرہ احمر میں امریکا اور اسرائیل سے تعلق رکھنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جائے۔ عبدالمالک الحوثی نے کہا کہ پہلے امریکی ایجنٹوں کے خلاف ہزاروں یمنی شہریوں نے جانیں پیش کی تھیں، اب فلسطینیوں کیلئے امریکا، برطانیہ اور اسرائیل سے براہ راست نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب نے یمن پر امریکی و برطانوی حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کے متعددمقامات پرامریکا اوربرطانیہ کے فضائی حملوں پرگہری تشویش ہے۔ یمن میں حوثیوں پر امریکی و برطانوی حملوں پر کانگریس میں ڈیموکریٹک اراکین کی جانب سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق کیلی فورنیا سے ڈیموکریٹک رکن آر او کھنہ کا کہنا تھا کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرنے اور مشرق وسطی میں ایک نیا تنازعہ شروع کرنے سے قبل امریکی صدر کو کانگریس سے منظوری لینی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ صدر پر ایسی منظوری کیلئے یہ پابندی امریکی آئین عائد کرتا ہے، میں ڈیموکریٹک یا ریپبلکن کا فرق کیے بغیر آئین کی بالادستی کے حق میں کھڑا ہوں۔ اوریگون سے ڈیموکریٹک رکن ویل ہوئل نے کہا کہ ان حملوں کی کانگریس سے منظوری نہیں لی گئی ہے اور امریکی آئین اس سے متعلق بہت واضح ہے کہ کسی بھی غیر ملکی تنازعے میں ملکی فوج کی مداخلت کا فیصلہ کرنے کا اختیار صرف اور صرف کانگریس کے پاس ہے اور ہر صدر کو پہلے کانگریس سے منظوری لینی چاہیے۔ ایک اور ڈیموکریٹ رکن جیسن کرو کا کہنا تھا کہ میں امریکا کو دہائیوں کیلئے ایک نئی جنگ میں دھکیلنے کے اس عمل کی حمایت نہیں کرسکتا۔ وسکنس سے ڈیموکریٹک رکن مارک پوکن کا کہنا تھا کہ امریکا کانگریس کی منظوری کے بغیر دہائیوں کیلئے ایک نئے تنازعے میں پھنسنے کا رسک نہیں لے سکتا ہے، وائٹ ہاؤس کو مزید حملوں سے قبل کانگریس کو اپنے اعتماد میں لینا چاہیے۔


