میں غفار لانگو کا وکیل تھا، اگر وہ جیل میں رہتا تو آج زندہ ہوتا، ساجد ترین ایڈووکیٹ

کوئٹہ (پ ر) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مجھے وہ وقت اب بھی یاد ہے جب میں غفار لانگو (ماہ رنگ کے والد) کا وکیل تھا، انہی دنوں میں نواب خیر بخش مری کا بھی وکیل تھا۔ کوئٹہ میں ان پر تمام مقدمات ختم کر دیے گئے لیکن کچھ عرصے بعد انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔ جب اسے عدالت میں پیش کیا گیا ، تو ان پر اس قدر تشدد کیا گیا تھا کہ ان کی کمر پر بڑے سوراخ تھے جو اس نے عدالت کو دکھائے تھے۔ جس عدالت سے غفار لانگو کے لیے آخری بار ضمانت لی گئی، وہاں اتفاق سے میرے مرحوم بھائی واسع ترین ا± وقت اے ٹی سی جج تھے لیکن رہائی کے بعد غفار لانگو قتل کر دیا گیا ، میں اب بھی سوچتا ہوں کہ اگر وہ جیل میں رہتا تو آج شاید زندہ ہوتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں