گورنمنٹ انٹر کالج مانجھی پور کی نئی عمارت کا کام گزشتہ تین سال سے شروع نہ ہوسکا

مانجھی پور(یو این اے)گورنمنٹ انٹر کالج مانجھی پور کی نئی بننے والی بلڈنگ کا کام گزشتہ تین سالوں سے شروع ہی نہ ہوسکا جس کے باعث تعلیمی نظام 50 سالہ پرانی ہاسٹل کی مخدوش عمارت میں با امر مجبوری جاری ہے جس کے باعث کالج کے طلبا و طالبات کی زندگی دا پر لگنے سمیت ان کی تعلیم بھی شدید متاثر ہورہی ہے جبکہ کالج کے اسٹاف کو بھی اپنے فرائیض کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا ہے کالج کی گیاہویں اور بارہویں جماعت کے طلبا کی تعداد 250 سے زائد جبکہ طالبات کی تعداد 80 سے زائد ہے لیکن کالج کی بلڈنگ نہ ہونے سے طلبا خوف کی وجہ سے کالج تک نہیں آرہے ہیں کالج کیلئے ہاسٹل کی پرانی بلڈنگ میں ایک دفتر،دو کلاس رومز ہونے کے باعث طالبات کو شام کے اوقات کلاسز لینی پڑتی ہیں کالج انتظامیہ کے مطابق ہمارے کالج کے طلبا کا پڑھائی سمیت مختلف شعبوں میں ٹینلٹ دیکھتے ہوئے ڈائریکٹرکالجز نے ہمارے کالج کو ڈگری کا درجہ دینے کا اعلان کیا ہے جو کہ بغیر نئی بلڈنگ کے ناممکن ہے کالج کی نئی بلڈنگ کیلئے الاٹ شدہ زمین سمیت تعمیراتی کام کیلئے 31 کروڑ روپے کی خطیر رقم بھی مختص کی گئی ہے جس کیلئے فیز ون کیلئے 16 کروڑ روپے بذریعہ ٹینڈر منظور ہوچکی ہے جبکہ ٹھیکیدار کو لاکھوں روپے موبیلائیزیش کی مد میں جاری بھی کئے گئے لیکن تاحال کالج کی بلڈنگ کا کام شروع نہیں ہوسکا سکول کے طلبا کا کہنا ہیکہ کئی مرتبہ چھت سے چھپر گرنے کے واقعات رونما ہوچکے ہیں لیکن اللہ پاک کے کرم سے ہم محفوظ رہے لیکن موجودہ عمارت اتنی مخدوش ہوچکی ہے کہ خدانخواستہ کسی بھی وقت چھت گرسکتی ہے جس سے ہمیں جان کا خطرہ لاحق ہے لہذا ہماری حکام بالا کمشنر نصیرآباد ڈویژن، ڈاریکٹر کالجز اور متعلقہ محکموں سے اپیل ہیکہ نوٹس لیکر ہمارے کالج کی بلڈنگ کا کام شروع کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں