ماہ رنگ کا مقصد بے نقاب ہوگیا، چمن گوادر کی طرح فری پورٹ بننے جا رہا ہے، جان اچکزئی

کوئٹہ (آن لائن)نگران صوبائی وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لئے حکومت اور سیکورٹی ادارے پوری طرح تیار ہیںپاکستان میں اور خاص طور پر بلوچستان میں دشمن قوتیں اندرونی خلفشار پیدا کرنے میں ناکامی کے بعد بیرونی مداخلت کی کوشش کررہی ہیں لیکن دشمن کبھی اپنی سازشوں میں کامیاب نہیں ہوگا اور ہم ہر جگہ دشمن قوتوں کا بھر پور مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو سول سیکرٹر یٹ میں پریس کانفرنس کے دوارن کیا انہوں نے کہا کہ ہم انتہائی مایوس ہیںکیونکہ دفتر خارجہ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ تخریب کاری خطے کے تمام ممالک کے لیے مشترکہ خطرہ ہے جس کے لیے مربوط کارروائی کی ضرورت ہے ہمسایہ ملک ایران کی جانب سے پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزیوں کی اس طرح کی کارروائیاں پاکستان کے ساتھ قائم ہمسایہ تعلقات، اعتماد اور تجدید تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہیںانہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں اپنے مارچ کے دوران ماہ رنگ بلوچ اور ان کی ساتھی خواتین اپنے مقاصد کے حوالے سے واضح ہوگئی ہیں اسلام آباد میں بلوچستان کے عوام اور بلوچوں سے لازوال محبت دیکھنے میں آئی جیسے ان خواتین نے استحصال کرنے کی کوشش کی لیکن ان کے بھارت نواز ایجنڈے نے ان کی حقیقت عوام کے سامنے کھول کر رکھ دی اور جب پاکستانی عوام نے پاکستان کی خاطر قربانیاں دینے والے شہدا کے لواحقین کو دیکھا تو انہیں ساری صورتحال کا ادراک ہوا نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی حکومت نے علیحدگی پسندوں کے ساتھ روابط رکھنے والی خواتین کو اسلام آباد میں بیٹھنے اور قانون کے دائرے میں احتجاج ریکارڈ کرانے کا پورا موقع فراہم کیا میں نے بھی اسلام آباد جاکر شہدا کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور دھرنے پر بیٹھی خواتین کو پاکستان کے پرچم تلے مذاکرات کی پیشکش کی اور بھارت کی بلوچستان کے حالات خراب کرانے کی مذمت کی ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو خبردارکرتے ہیں کہ وہ عالمی تخریب کار کے کردار سے باز آجائے اب چور کی داڑھی میں تنکے کی طرح ماہ رنگ بلوچ نے الزام لگایا ہے کہ انہیں اور کے خاندان کو کچھ ہوا تو جان اچکزئی اور وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ پر اس کی ذمہ داری عائد ہوگی ہم سیاسی کارکن ہیں اور کسی قسم کی تخریب کاری سے ہمارا کوئی تعلق نہیں البتہ ہم ہر قسم کی تخریب کاری کے خلاف ہیں اور پاکستان کے مستعد ادارے تخریب کاروں سے نمٹنا جانتے ہیں البتہ ہم بھارت کے ہاتھوں میں کھیلنے والے پاکستان کے بلوچ بھائیوں کو عام معافی دلواکر قومی دھارے میں لارہے ہیں مزید علیحدگی پسند جلد قومی دھارے میں آنے والے ہیں شاید ان کوششوں سے بوکھلا کر وہ الزامات پر اتر آئی ہیں اسلام آباد میں ان کی سہولت کاری کرنے والے بدنام زمانہ دانشوروں نے بلوچستان علیحدگی پسندوں کے لئے میدان سجانے کی کوشش کی اور اسی مایوسی میں وہ آئینی اداروں کے اہم لوگوں کے خلاف بے بنیاد بیانات بھی دینے لگے یہ اسلام آباد میں بیٹھے نام نہاد دانشوروں کا آئیڈیا تھا کہ بلوچ علیحدگی پسندوں کی حامی خواتین کے ذریعے وہ عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص خراب کریں گے لیکن ان میر جعفروں کو منہ کی کھانی پڑی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایران سے حملہ میں 2بچیاں جاں بحق ہوئی ہیںایران کی جانب سے دراندازی قبول نہیں ایک اور سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ چمن گوادر کی طرح فری پورٹ بننے جا رہا ہے 8فروری کو عام انتخابات کی تیاریاں زورشور سے جاری ہیں اور بلوچستان میں عام انتخابات کی سیکورٹی کیلئے پر عزم ہیں ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دفتر خارجہ نے پہلے ہی وضاحت کر دی ہے کہ دہشت گرد سب کے مشترکہ دشمن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں