بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایودھیا میں رام جنم بھومی مندر کا افتتاح کردیا
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے آج اتر پردیش کے شہر ایودھیا (فیض آباد) رام جنم بھومی مندر کا افتتاح کیا۔ اس تقریب کو مودی سرکار نے انتخابی مہم کا حصہ بناکر غیر معمولی، بلکہ فیصلہ کن سیاسی فوائد بٹورنے کی بھرپور کوشش کی ہے اور اس کوشش میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی رہی ہے۔ رام مندر کا معاملہ بھارتی سیاست کو تقریباً چار عشروں سے فیصلہ کن سمت دینے میں کامیاب رہا ہے۔ ایودھیا میں سولہویں صدی کی بابری مسجد کا نام و نشانہ مٹاکر وہاں رام جنم بھومی مندر تعمیر کرنے کی خواہش انتہا پسند ہندوو¿ں کے دل و دماغ میں سات آٹھ عشروں سے رہی ہے تاہم 1990 کی آمد تک وہ کچھ خاص نہ کرسکے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی انتہا پسندی کی بات ضرور کرتی رہی ہے تاہم مرار جی ڈیسائی اور اٹل بہاری واجپائی جیسے اعلیٰ ذہن کے مالک سربراہوں کی موجودگی میں وہ انتہا پسندی کی طرف نہ جاسکی۔ بی جے پی کی قیادت جب لعل کشن چند ایڈوانی کو ملی تب بابری مسجد کو ہٹاکر رام مندر بنانے کی تحریک نے زور پکڑا۔ 1990 کا عشرہ آنے تک یہ تحریک اس قدر زور پکڑگئی کہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ دونوں کے لیے اِسے کنٹرول کرنا ممکن نہ رہا۔ رام مندر کی سیاست نے جب زور پکڑا تو ملک بھر کے لاکھوں انتہا پسندوں کے جذبات پکڑا اور یوں 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں بابری مسجد کو شہید کردیا گیا۔ رام مندر کے نام پر کی جانے والی سیاست نے ملک میں کئی بار مسلم کش فسادات کرائے۔ ان فسادات میں ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ بابری مسجد کی شہادت کے موقع پر بھی شدید نوعیت کے مسلم کش فسادات ہوئے تھے جن میں ہزاروں مسلمانوں کو شہید کردیا گیا تھا۔


