بلوچستان میں بدترین سول مارشل لا نافذ ہے امن امان کو جواز بناکر صوبے کو قرون وسطی میں دھکیلا جارہا ہے، نیشنل پارٹی

کوئٹہ(این این آئی)نیشنل پارٹی کے بلوچستان کے ورکنگ کمیٹی کے پہلے روز کا اجلاس زیر صدارت صوبائی صدر چہرمین اسلم بلوچ منعقد ہوا اجلاس میں بلوچستان بھر سے اراکین ورکنگ کمیٹی شرکت کررہے ہیں ،اجلاس سے افتتاحی خطاب میں اسلم بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں سول مارشل لا نافذ ہے سیاسی کارکنوں کو حراساں کرنے کے لیئے بے شمار سیاسی کارکنوں کو بدنام زمانہ فورتھ شیڈول میں الجھا کر حراساں کیا جارہا ہے بلوچستان کے وسائل ستر سالوں سے لوٹا جارہا تھا اب تو ان وسائل کو شیرمادرسمجھ کر اس دیدہ دلیری کے ساتھ لوٹا جارہا ہے کہ آواز اٹھانے والوں کو غدار کا لقب دیا جارہا انہوں نے کہاکہ سیندک ریکوڈک کے بعد اب بلوچستان سے بڑے پیمانے پر بیش بہا وسائل کا لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے جو بلوچستان کے عوام کے لیئے ناقابل قبول ہے امن امان کو جواز بناکر بلوچستان کو قرون وسطی میں دھکیلا جارہا ہے وفاق کی ان توسیع پسندانہ عزائم کی بدولت بلوچستان میں احساس محرومی شدت اختیار کرچکی ہے جسے اب منفی پروپیگنڈا کے ذریعے نہ روکا جاسکتا ہے نہ اس بے چینی کی شدت کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ورکنگ کمیٹی کے پہلے روز کے اجلاس میں مختلف اضلاع کے صدور اور جنرل سیکریٹریز نے اپنے اپنے اضلاع کی پارٹی رپورٹ پیش کی بی ایس او پجار کے سیکریٹری جنرل ابرار برکت اور صوبائی صدر شکیل بلوچ نے تنظیمی رپورٹس پیش کیئے جبکہ صوبائی کنرل سیکریٹری چنگیز حئی بلوچ نے مجموعی پارٹی رپورٹ پیش کی، اجلاس جمعہ کو دوسرے روز بھی جاری رہے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں