تربت میں لاپتا افراد کے لواحقین کی جانب سے دیے گئے دھرنے کی حمایت کرتے ہیں، بی ایس او

تربت (نمائندہ انتخاب ) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ تربت میں لاپتہ افراد کے لواحقین جن کے پیارے سالوں سے لاپتہ ہیں دھرنا دئیے بیٹھے ہیں، بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن مذکورہ دھرنے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے تربت میں موجود مرکزی و زونل دوستوں کو دھرنا میں شرکت کرنے اور مکمل حمایت کرنے کی ہدایت کرتی ہے،ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح گزشتہ دنوں لوامز یونیورسٹی اوتھل کے طالب علم محبوب علی کو گھر جاتے ہوئے دوران سفر لاپتہ کیا اور تاحال ان کے خاندان کو کسی قسم کی معلومات نہیں دیا جا رہا ہے، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن جبری طور پر گمشدگیوں کی شدید مذمت کرتی ہے اور اس غیر انسانی فعل کی فی الفور روک تھام کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی اداروں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری انسانی بحران کا نوٹس لیں اور اقوام متحدہ بلوچستان میں فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجے۔ علاوہ ازیں بی ایس او تربت زون کے ترجمان نے بلوچ لاپتہ افراد کے خاندانوں کی جانب سے ڈی بلوچ اور سامی میں دئیے جانے والے دھرنوں کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے، ترجمان نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے، جبری گمشدگیوں میں شدت کے ساتھ اضافہ ہوا ہے،لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کی بجائے مزید لوگوں کو لاپتہ کیا جارہا ہے، انھوں نے کہا ہے کہ تربت زون لاپتہ افراد کے لواحقین سے بھرپور تعاون اور جدوجہد میں ساتھ دینے کا اعلان کرتی ہے اور عوام سے اس تحریک میں شرکت کی اپیل کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں