چین کی جاسوسی کے الزام میں گرفتار کبوتر 8 ماہ بعد بھارتی قید سے آزاد
نئی دہلی(صباح نیوز) بھارتی حکومت نے چین کی جاسوسی کے الزام میں گرفتار ایک کبوتر کو 8 ماہ بعد آزاد کر دیا ہے۔ کبوتر کو ممبئی میں رکھا گےا تھا۔ پولیس کے مطابق تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ کبوتر تائیوان کے کھلے پانی میں ریسنگ کرنے والا پرندہ تھا جو فرار ہو کر ہندوستان چلا گیا تھا۔پولیس نے پرندے کو پرندوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے حوالے کیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے طبی امداد رےنے کے بعد آزاد کر دیاکبوتر کو پکڑنے کے بعد بھارتی حکام نے دعوی کیا تھا کہ کبوتر کے پاوں میں تانبے اور ایلومینیم کے رنگ ڈالا گئے ہیں ، جبکہ پروں کے نیچے سے چینی رسم الخط کی طرز پرلکھی گئی تحریر برآمد ہوئی۔پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کی تھیں اور 8 ماہ کی تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ سامنے آیا کہ پکڑے جانے والے کبوتر کا چین سے کوئی تعلق نہیں۔ کبوتر اڑان کے مقابلوں میں استعمال ہونے والا پرندہ ہے جو تائیوان میں ہونے والے مقابلوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔۔یہ پہلا موقع نہیں جب بھارت میں کوئی پرندہ پولیس کے شک کی زد میں آیا ہو۔2020 میں، جموں وکشمیر کشمیر میں پولیس نے ایک کبوتر کو پاکستانی جاسوس قرار دے کر پکڑ لیا تھا
بھارت اس سے قبل پاکستان پر بھی متعدد بار کبوتر کے ذریعے جاسوسی کے الزامات عائد کرچکا ہے۔


