مذہبی تنظیموں کی جانب سے پاکستان بھر میں آج ”یوم تحفظ ختم نبوت“ منایا گیا

اسلام آباد (صباح نیوز) ملک بھر میں جمعة المبارک کو یوم تحفظ ِ ختم نبوت“ کی حثیت سے پوری غیرت ملی کے ساتھ منایا گیا ۔عالمی تنظیم اہلسنت، مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سمیت مختلف دینی تنظیموں کی طرف سے ریلیاں مظاہرے بھی کیے گئے۔ علما کرام نے خبردار کیا ہے کہ سپریم کورٹ نے متنازعہ فیصلہ واپس نہ لیا تو دینی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر فیصلہ کن تحریک چلائی جائے گی۔ جمعہ کے اجتماعات میں خطباءاسلام نے عقیدہِ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کے موضوع پر ایمان افروز خطابات کیے ۔گجرات بابِ غوثِ اعظم میں پیشوائے اہلسنت پیر محمد افضل قادری نے ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امتناعِ قادیانیت آرڈیننس “ کے تحت قایادینیوں پر سخت پابندیاں ہیں کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے اور یہ کہ وہ شعائر ِاسلام ( مثلاً اذان مسجد وغیرہ ) کے نام استعمال نہیں کر سکتے۔ انھوں نے کہا کہ میں خود سپریم کورٹ جا رہا ہوں اور بہتر یہ ہو گا کہ سپریم کورٹ خود مجھے کورٹ میں بلائے، متنازعہ فیصلہ کی اصلاح ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ درست نہ کیا تو یکم مارچ جمعة المبارک کو ” یوم ختم نبوت اور خلیفہ اول کا کردار“ ملک بھر میں منایا جائے گا اوردیگر دینی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر فیصلہ کن تحریک چلائی جائے گی ۔انہوں نے اہلسنت وجماعت بریلوی اور تقریباً تمام فرقوں کے لیڈروں کی طرف سے تحریک تحفظ ختم نبوت کی بھرپور تائید کر نے کا شکرایہ ادا کیا ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کی ایما پر جتنے ختم ِ نبوت کے پروانے گرفتار ہیں انہیں فوراً رہا کیا جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں