حب میں قتل و غارت اور لوٹ مار معمول بن گیا، پولیس لوگوں کو تحفظ دینے میں ناکام
حب (رپورٹ: عزیز لاسی) حب اور مضافاتی علاقوں میں قتل و غارت گری لوٹ مار کی وارداتیں روز کا معمول بن گئیں گزشتہ روز مغربی بائی پاس پر پیٹرول پمپ پر ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر سیکورٹی گارڈ مسلح ڈاکوﺅں کے ہاتھوں قتل جبکہ منگل کے روز حب اور ساکران میں دو افراد کو قتل کردیا گیا ،اخبار کے دفتر میں مسلح ڈاکو داخل ہو گئے صحافیوں اور اسٹاف کو موبائل فونز اور نقدی سے محروم کردیا اور فرار ہو گئے حب کا پولسنگ نظام ناکام شہر میں نہ پولیس گشت ہے نہ ہی اسنیپ چیکنگ کا کوئی سلسلہ نفری کی کمی ہے تو صرف شہریوں اور تاجروں کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے لیکن پولیس افسران کیلئے بھتہ جمع کرنے کیلئے نفری کی کوئی کمی نہیں جب سے نئے ایس پی تعینات ہوئے ہیں شہر میں بدامنی اپنی عروج پر پہنچ چکی ہے عوامی حلقوں کا واقعات پر شدید ردعمل اس سلسلے میں بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ روز حب شہر میںمشرقی بائی پاس اور ساکران رسول بخش قلندرانی گوٹھ میں قتل کی دو وارداتیں ہوئی ہیں جن میں نامعلوم مسلح افراد نے گھر میں گھس کر محمد رمضان نامی شخص کو قتل کردیا اور فرار ہو گئے ساکران پولیس کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود نہ تو قتل کی واردات اور نہ ہی قاتلوں کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوسکی جبکہ قتل کی دوسری واردات حب مشرقی بائی پاس پر ہوئی جس میں نامعلوم مسلح افراد نے 35سالہ میرولی ولد فضل الرحمن نامی شخص کو گولیاں مار کر قتل کیا اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے پولیس کے مطابق مقتول کے ورثاءکا پتہ نہ لگنے کی وجہ سے نعش کو ایدھی سردخانہ کراچی منتقل کردیا گیا ہے مزید برآں منگل کی شب حب شہر میں ایک مقامی روزنامہ کے دفتر میں مسلح ڈاکو داخل ہو گئے اور وہاں موجود بعض صحافیوں اور اسٹاف سے گن پوائنٹ پر نقدی رقم اور موبائل فونز چھین لیئے اور موقع واردات سے بآسانی فرار ہو گئے واضح رہے کہ گزشتہ چند ہفتوں سے حب شہر میں بدامنی کی ایک لہر آئی ہوئی ہے جس میں ابتک 6شہریوں کو فائرنگکرکے قتل کیا گیا ہے جبکہ لوٹ مار ڈکیتی رہزنی و چوری کی درجنوں وارداتوں میںنامعلوم مسلح ڈاکواب تک درجنوں شہریوں اور تاجروں کو لاکھوں روپے کی نقدی اور درجنوں قیمتی موبائل فونز موٹر سائیکلوںسے محروم کر چکے ہیں شہریوں اور تاجروں و عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس ہر وقت نفری کی کمی کا رونا رہتی ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کیا نفری کی کمی صرف عوام کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ہے لیکن پولیس افسران کیلئے مختلف پولیس چوکیوں اور سڑکوں پر سرعام بھتہ وصولی کیلئے تعینات پولیس اہلکاروں کی کوئی کمی نہیں ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب سے حب میں موجودہ ایس پی تعینات ہوئے ہیں تب سے بدامنی کی لہر آئی ہے اور حب کا پولیسنگ سسٹم مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے عوامی حلقوں نے آئی جی پولیس اور DIGقلات رینج پولیس سے حب شہر میں بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا نوٹس لینے اور ان واقعات کے پس پردہ محرکات کی انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔


