بلوچستان میں مسلح مزاحمت ہورہی ہے، لوگوں کو لسانیت کے نام پر قتل کیا جارہا ہے، انوار الحق کاکڑ
اسلام آباد (انتخاب نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوچ طلباءکی عدم بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ کون احمق اور بے وقوف ہوگا کہ جبری گمشدگیوں کی ایڈوکیسی کرے گا، آج سے 3 ماہ پہلے کوسٹل ہائی وے پر لوگوں کو زندہ جلایا گیا۔ عدالت نے نگراں وزیراعظم سے استفسار کیا کہ نگراں وزیراعظم آپ نے ریکارڈ دیکھا ہوگا کتنے لوگ غائب ہیں؟۔ جس پر نگراں وزیراعظم نے کہا کہ میں جوابدہ ہوں، سب کو قانون کے مطابق ہی کام کرنا چاہیئے، زندہ رہنے کا حق سر فہرست ہے، بلوچستان سے ہونے کی وجہ سے وہاں کے حالات کا زیادہ علم ہے، بلوچستان میں مسلح مزاحمت ہورہی ہے،نان اسٹیٹ ایکٹرز بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہے۔ انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ مسلح گروہ کو نہ میں، نہ اٹارنی جنرل اور نہ عدالت اجازت دے سکتی ہے، بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے نان اسٹیٹ ایکٹرز پر رپورٹ تیار کرلی تھی، سابق چیف جسٹس کو ریٹائرمنٹ کے بعد قتل کیا گیا کہ ہمارا چہرہ کیوں دکھایا گیا۔ نگراں وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم نے ان کو منت سماجت کی لاپتہ افراد سے متعلق ہمیں نام فراہم کریں، کون احمق اور بے وقوف ہوگا کہ جبری گمشدگیوں کی ایڈوکیسی کرے گا، آج سے 3 ماہ پہلے کوسٹل ہائی وے پر لوگوں کو زندہ جلایا گیا، انسانی حقوق کی تنظیموں سے گزارش ہے ریاست پر بھی تنقید کریں مگر نان سٹیٹ ایکٹرز پر بھی ضرور تنقید کریں، لسانی اور زبانی تفریق پر لوگوں کو قتل کرتے ہیں مگر مجال سب خاموش۔ انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ یہ بسوں سے اتار کر نام پوچھتے اورچوہدری یا گجر کو قتل کردیتے ہیں، یہ کہتے ہیں کہ اسٹوڈنٹس کی لسانی بنیادوں پر پروفائلنگ نہ کریں، سسٹم میں کمی اور خامیاں ہیں، ثبوت نہیں آتا تو کس کو کیسے سزا دیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے 90 ہزار شہادتیں ہوئیں؟ 90 لوگوں کو سزا نہیں ہوئی، مجھے صحافی نے پوچھا کہ آپ بلوچستان واپس کیسے جائیں گے؟ پیرا ملٹری فورسز، کاو¿نٹر ٹیرارزم کے اداروں پر الزامات لگائے جاتے ہیں، میں صرف لاپتہ افراد کے حوالے سے وضاحت کر رہا ہوں، یہ لاپتہ افراد کا پوچھیں تو 5 ہزار نام دے دیتے ہیں، یہ خود بھی اس ایشو کو حل نہیں کرنا چاہتے، ان کی وجہ سے پوری ریاست کو مجرم تصور کرنا درست نہیں، کوسٹل ہائی وے پر بس میں افراد کو زندہ جلا دیا گیا۔ نگراں وزیراعظم نے مزید کہا کہ یہ معاملہ ختم ہونا چاہیئے، آئے روز ریاست پر الزامات کا سلسلہ روکنا چاہیئے، قانون کو یہ دیکھنا ہوگا کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز اور اسٹیٹ ایکٹرز کو کیسے دیکھنا ہوگا۔ انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ یہ معاملہ بڑی سیاسی جماعتوں کو اٹھاکر حل کرنا چاہیئے، ہمارے اداروں نے بڑی قربانیاں دی ہیں، روزانہ اداروں کے جوان جاں بحق ہورہے ہیں، روزانہ اداروں کے جوانوں کے بچے یتیم ہورہے ہیں مگرہم خاموش ہیں، آئین پاکستان کا آرٹیکل 5 میرے سے غیر مشروط وفاداری مانگتا ہے۔ عدالت عالیہ نے کہا کہ بلوچستان جانے کی ضرورت نہیں ہمارے سامنے اسلام آباد میں مثالیں موجود ہیں، بات ایک ہی ہے کہ سب کو قانون کی پاسداری اور قانون کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیئے، قانون کی پاسداری ہر شہری کا حق ہے، اس بات کا کریڈٹ حکومت کو جاتا ہے 59 لوگوں میں سے صرف 8 رہ گئے۔ روانگی سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ میں نگراں وزیراعظم کی میڈیا سے گفتگو کے دوران صحافی نے سوال کیا کہ آپ نے جبری گمشدگی کا دفاع کیا، جس پر نگراں وزیراعظم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے جبری گمشدگی کے نام پر ریاست پر لگے الزمات کا دفاع کیا۔ صحافی نے پھر سوال کہا کہ یہ بندے کدھر تھے؟ جس پر انوار الحق کاکڑ نے جواب دیا کہ یہ الزام ہے اور اس کو الہامی حثیت نہ دیں، کام ہو رہا جب مکمل ہوگا تو سب کو بتا دیں گے۔ واضح رہے کہ نگراں وزیراعظم گزشتہ سماعت پر طلبی کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔


