نوشکی کے مالداروں کو افغانستان کی چراگاہوں تک رسائی کی اجازت دی جائے، مولانا رمضان مینگل
کوئٹہ (آن لائن) سنی علماءکونسل بلوچستان کے امیر مولانا محمد رمضان مینگل نے کہا ہے کہ نوشکی کے لوگوں کے ذریعہ معاش کا دارو مدار گلہ بانی سے جڑا ہوا ہے علاقے میں چراگاہیں نہ ہونے اور افغانستان بارڈر کی بندش کی وجہ سے مال مویشی کے پیشہ سے وابستہ لوگ چراگاہوں کی تلاش میں رہتے ہیں اور موسم کے اعتبار سے اپنے مال مویشیوں کوچارے کے لئے لے جاتے ہیں بارڈر کھولا جائے تاکہ دونوں اطراف کے لوگ کاروبار اور چراگاہوں کے حصول کے لئے با آسانی آجا جاسکیں۔ ان خیالات کا اظہار نوشکی کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوشکی قدرتی چراگاہیں نہ ہونے اور بارڈر کی بندش سے ہزاروں مال مویشیوں کی زندگیوں اور لاکھوں لوگوں کے روزگار اور ذریعہ معاش کو خطرات لاحق ہیںجس سے مالداروں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا اور سینکڑوں سالوں سے لوگ اپنے مال مویشی بارڈر سے منسلک ہمسایہ ملک کی چراگاہوں میں چرانے کے لیے لیجاتے رہے ہیں مگر اب افغان بارڈر کے دروازوں کی بندش سے مالدار اپنے مال مویشی بارڈر پار لیجانہیں سکتے ہیں گزشتہ کئی دنوں سے مالدار سرکاری آفیسران کے دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہورہی مالدار وں کے لیے بارڈر بندش سے گلہ بانی کے شعبے کو شدید خطرات لائق ہیں انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی، کمانڈنٹ نوشکی ،ڈپٹی کمشنر سے اپیل کی ہے کہ نوشکی کے مالداروں کو فوری طور پر مال مویشی افغانستان چرانے کی اجازت دی جائے تاکہ ان کا ذریعہ اور روزگار متاثر نہ ہوسکے۔


