تعمیراتی صنعت کے فروغ کیلئے قومی سطح کی کمیٹی بنادی، شبلی فراز

اسلام آباد:وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ شعبہ تعمیرات کے فروغ کے لیے قومی سطح پر ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جس کی سربراہی لیفٹیننٹ جنرل انور علی حیدر کے پاس ہے۔اسلام آباد میں نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انور علی حیدر کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ جس طرح کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی)کی بنیاد رکھی گئی بالکل اسی طرح شعبہ تعمیرات کے تمام تر مسائل کے حل کے لیے کمیٹی بنائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سستے مکانات کی فراہمی ملک کا بڑا مسئلہ ہے کیونکہ بینکس عام طورپر تعمیراتی صنعت کو اتنا قرضہ نہیں دیتے۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ تعمیراتی صنعت پورے ملک کی معیشت کو چلاسکتی ہے کیونکہ تعمیراتی صنعت سے 40 سے زیادہ صنعتیں جڑی ہوئی ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کنسٹرکشن اینڈ انڈسٹری کو اٹھانے کے لیے ایک انتہائی اہم پیکج دیا گیا ہے کیونکہ حکومت اس منصوبے کی کامیابی کے لیے بہت سنجیدہ ہے۔شبلی فراز نے بلڈرز اور تعمیراتی صنعت سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ حکومتی پیکج سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، پیکج سے فائدہ اٹھانے کے لیے 31 دسمبر تک موقع ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ 31 دسمبر کے بعد عالمی اداروں کی پابندیاں لگ جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نیا پاکستان ہاسنگ اسکیم میں غیرمعمولی دلچسپی رکھتی ہے اور اسی لیے 5 مرلے کے مکان پر خریدار کو 3 لاکھ روپے کی چھوٹ ملے گی۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے 30 ارب کی سبسڈی مختص کی ہے۔چیئرمین پاکستان ہاسنگ اسکیم لیفٹیننٹ جنرل انور علی نے کہا کہ 5 مرلے کے گھر پر 5 فیصد اور10مرلے گھر پر 7فیصد مورگیج ہوگا۔لیفٹیننٹ جنرل انور علی نے کہا کہ کنسٹرکشن انڈسٹری کی ترقی سے بہت سے شعبوں کوفائدہ ہوگا، اپریل میں حکومت نے جو پیکج دیا اس میں ٹیکس کامعاملہ حل کیا گیا۔لیفٹیننٹ جنرل انور علی حیدر نے کہا کہ کنسٹرکشن انڈسٹری کیلئے قرض کے فکسڈ ٹیکس ریٹ کو بہت کم کیاگیا ہے، پالیسی کے ذریعے صوبائی ٹیکس، پراپرٹی ٹرانسفر پر ٹیکس کو کم کیا گیا اب کسی کو اپنے لئے گھر بنانا ہے تو اس پر کیپٹل گین ٹیکس ختم ہو کر دیا گیا ہے۔چیئرمین نیاپاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا کہنا تھا کہ کم آمدنی والا شخص گھر بنائے تو12فیصد پرقرضہ لیناممکن نہیں تھا، 5مرلے کے گھر پر 5فیصد اور10مرلے گھر پر 7فیصد مورگیج ہوگا یہ فورم بلڈرز اور ڈویلپرز کو درپیش مشکلات کے حل کیلئے بنایاگیا۔لیفٹیننٹ جنرل انور علی حیدر نے بتایا کہ کم آمدنی والے لوگوں کیلئے ایک لاکھ گھر کا ہدف رکھا گیا ہے حکومتی پالیسی کے نتیجے میں 20لاکھ کے گھرکی قیمت 15لاکھ پر آجائے گی۔ لیفٹیننٹ جنرل انور علی حیدر نے بتایا کہ حکومت نے فیکس ٹیکس کے تحت 90 فیصد ٹیکس ختم کردیے اور سیکشن 111 انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت غیر واضح آمدن والے حضرات کو 31 دسمبر 2020 تک استثنیٰ حاصل ہوگئی۔انہوں نے بتایا کہ صوبائی ٹیکس اور ٹرانسفرٹیکسز میں کمی کی گئی

اپنا تبصرہ بھیجیں