مہنگائی کے باعث محنت کش خودکشیاں کررہے ہیں، حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی، مزدور اتحاد
خضدار (بیورو رپورٹ) ملک بھرکی طرح یوم عالمی مزدور ڈے کے سلسلے میں مزدور چوک نوپ آفس سے مزدور اتحاد کی ریلی کاانعقاد کیاگیاریلی مختلف شاہراہوں سے ہوتا ہوا میونسپل کارپوریشن خضدار کے سبزہ زار میں ایک بہت بڑے جلسہ کی شکل اختیار کی ریلی سے چیئرمین مزدور اتحاد خضدار ڈاکٹر محمد اسماعیل زہری,خلیل احمد چنال, عبدالرشید غلامانی, پروفیسر انعام مینگل, انجمن تاجران کے صدر حافظ حمید اللہ مینگل, حضوربخش طالب, محمدالیاس موسیانی ودیگر مقررین نے خطاب کیا مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج مزدوروں کے عالمی ڈے کے دن پر بھی مزدور طبقہ محنت مزدوری سے فارغ نہیں ہے مزدوروں کو ڈیہاڑی انکے پسینہ خشک ہونے سے پہلے ملنی چاہیئے شکاگو کے جانثاروں کو اپنے جان کانذرانہ پیش کرنے پرخراج تحسین پیش کرتے ہیں مزدوروں ہرمشکل اورکھٹن دور اپنے محنت اور مشقت سے بمشکل دووقت کی روٹی کمائی ہے آج ملک میں مہنگائی آسمان کو چھورہی ہے مزدور خودکشی کرنے پر مجبور ہے مگر حکمران ٹھس مس نہیں ہورہاہے شکاگو کے مزدوروں نے 1986 میں تحریک کا آغاز کرکے امریکی سامراج کو للکارتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ دیکر لازوال قربانی دیکر تاریخ رقم کی ہے مقررین مے ہر ہمیشہ حکومتوں کی سخت فیصلے صرف مزدورطبقے پرلاگوہوتا ہے آج تک کسی نے کبھی نہیں س±نا ہوگاکہ سرمایہ داروں کے مراعات اور عیاشیاں کم ہوئی ہیں بلکہ جہاگیرداروں اور سرمایہ داروں اور سیاستدانوں کے مراعات دن بہ دن بڑھتی جارہی ہیں لیکن ملک کو دیوالیہ کے قریب کردیا ہے مزدورکی تنخواہ وہی کے وہی ہے مقررین نے کہا موجودہ حکومت کی مزدور ک±ش پالیسیوں کی سخت الفاظ مزمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی عوام دشمن پالیسیاں اور آئی ایم ایف کی شرائط اور سارا بوجھ بھی عام عوام اور مزدور طبقے پر کے بوجھ بن کر رہے گی جب بھی ملک مشکل حالات آتے ہیں سب سے پہلے مزدور انکی چکی پس جاتی ہے ہمیشہ مزدور طبقہ نے اپنی جان ومال کی قربانی دی ہے حکمران طبقے ہمیشہ مزدوروں کا استحصال کرتے آئے ہے مقررین نے کہا کہ مختلف اداروں کی نجکاری عام آدمی پر قیامت بن کر ٹوٹ پڑے گی حکومت کی نااہلی کا بوجھ محنت کش طبقہ پر اثرانداز ہوتے رہیں گے خضدار میں مزدور طبقہ کا کوئی پرسان حال نہیں ہے لاکھوں باسیوں کی ہیڈکوارٹر ہسپتال میں سرنج تک دستیاب نہیں ملک کے دیگر حصوں میں تعلیمی اداروں میں طلبہ کو الیکٹرک بائیک دیا جارہا ہے جب کہ ہمارے سرکاری تعلیمی اداروں میں غریب کے بچوں کیلئے کتاب دستیاب نہیں ہے ہمارے تعلیمی ادارے تمام سہولیات سے محروم ہے،ایک مزدور کی تنخواہ مہنگائی کی مناسبت سے درست نہیں مزدور 8 سو کماتا ہے اور اسکے روزانہ کے اخراجات ہزاروں روپئے تک پہنچ جاتی ہیں اے جی آفس کے انچارج کی غیرحاضری اور کوئٹہ میں براجمان ہونے کی وجہ سے ملازمین کی پریشانیوں میں بے تحاشہ اضافہ ہورہاہے ان تمام ملازمین بہت جلد اے جی آفس کے ذمہ داران کے خلاف باقاعدہ احتجاج کا آغاز کرینگےاورملازمین کے جائز حل ہونے تک خاموش نہیں بیھٹیں گے آخرمیں تمام مزدور ملازم جلسہ کی توسط سے شکاگو کے جانثاروں کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے ان کی لازوال قربانی دینے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔


