کوئٹہ پریس کلب پر تالہ بندی ، صحافی جان محمد مہر کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کیخلاف بدین میں احتجاج

بدین(رپورٹر محمد علی بلیدی) صحافی جان محمد مہر کے قاتلوں کی عدم گرفتاری اور کوئٹہ پریس کلب پر تالہ بندی کے خلاف بدین کے صحافیوں نے بدین پریس کلب سے ایوان صحافت بدین تک احتجاجی ریلی نکالی اور مظاہرہ کیا صحافیوں نے جان محمد مہر کے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ تفصیلات کے مطابق جان محمد مہر کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف حیدراباد یونین آف جرنلسٹ بدین یونٹ کے زیراہتمام بدین کے صحافیوں ایچ یو جے کے سنئیر نائب صدر شوکت میمن بدین پریس کلب صدر تنویر احمد آرائیں ایوان صحافت بدین کے صدر لالہ ہارون گوپانگ، ایچ یو جے کے ایگزیکیوٹو حاجی خالد محمود گھمن ، ایوان صحافت بدین کے جنرل سیکرٹری شفیع محمد جونیجو ، ایچ یو جے بدین یونٹ کے صدر عطا چانڈیو ، جنرل سیکرٹری علی محمد شاہانی سینئر صحافیوں محمد علی بلیدی ، عبدالحمید سومرو، عمران عباس خواجہ ، الطاف شاد ، نواز چنہ ،اشرف میمن ، عبدالمجید ملاح ، میر شکیل میمن ، نصرت جعفری ، اشفاق میمن ، سارنگ جونیجو ، علی میمن عبدالطیف زرگر اعجاز مینگل ، ناصر قاضی ، اختر شاہ ، مبارک واھرو،ایوب کھٹی اسحاق شیخ فرحان میمن روشن کوریجو منور جمالی عطا گاڈاہی غلام حسن چاوڑو اور دیگر کی قیادت میں بدین پریس کلب سے ایوان صحافت بدین تک احتجاجی ریلی نکالی گئی اور مظاہرہ کیا گیا ۔ اس موقع پر صحافی تنظیموں کے عہدیداروں نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت اور سندھ پولیس کی ناہلی کے باعث صحافی جان محمد مہر کے قتل آج بھی آزاد ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ انہوں نے کہا ہماری جدوجہد اور احتجاجی مہم صحافی جان محمد مہر کے قاتلوں کی گرفتاری تک جاری رہے گی ۔ صحافیوں نے اس موقع پر کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی کے خلاف بھی احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل آزادی صحافت پر حملہ ہے ۔ پاکستان بھر کے صحافی بلوچستان حکومت اور کوئٹہ انتظامیہ کی صحافت دشمن کاروائی کے خلاف ہر سطح پر آواز بلند کریں گے، اس موقع پر صحافیوں نے جان محمد مہر کے قاتلوں کی عدم گرفتاری اور کوئٹہ پریس کلب پر تالہ بندی کے خلاف سخت نعرے بازی بھی کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں