تمام لاپتا افراد کے کیسز کیلئے لارجر بینچ بنانے کی سفارش
اسلام آبا د(این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کی پٹیشن نمٹا دی جبکہ سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ میں تمام لاپتا افراد کے کیسز کے لیے لارجر بینچ کی تشکیل کرنے کے لیے چیف جسٹس کو لکھ رہا ہوں۔جمعہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے احمد فریاد کی اہلیہ عروج زینب کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور سینئر صحافی حامد میر بطور عدالتی معاون عدالت میں پیش ہوئے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل اور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل بیرسٹر عثمان گھمن بھی عدالت میں موجود ہیں۔وکیل ایمان مزاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشتگردی کی عدالت نے ضمانت مسترد کی ہے، ہم ابھی ضمانت کی درخواست کو ہائیر فورم پر چیلنج کر رہے ہیں۔ عدالت کی کارروائی کے نتیجے میں وہ 2 مقدمات میں چلا گیا جس کی فیملی متاثر ہو رہی ہے، یہ ظلم کا ایک سلسلہ اور روز کا کام ہے، اسلام آباد کی حدود کو عدالتیں دیکھیں گی، قومی سلامتی کے معاملات پر عدالت ان کیمرا پروسیڈنگ اور اس کی رپورٹنگ پر پابندی لگائے گی، لارجر بینچ اس لیے بھجوا رہا ہوں کہ ایک جج کا مو¿قف کچھ اور ہو تو دوسرے ججز بھی دیکھیں، ہو سکتا ہے کہ باقی ممبران اس سے متفق نہ ہوں کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان کو بلانا ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ہم نے کہیں بیٹھنا ہے اور طے کرنا ہے کہ کون سی لائن ہے جسے کراس نہیں کرنا۔


