کلبھوشن یادیو کی اپیل سے متعلق آرڈیننس قومی اسمبلی میں پیش
اسلام آباد: کلبھوشن یادیو کی اپیل سے متعلق آرڈیننس وزارت قانون کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔
آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت قومی اسمبلی میں کلبھوشن یادیو کی اپیل سے متعلق آرڈیننس پیش کیا گیا تو اپوزیشن نے شدید اعتراضات اٹھائے، پیپلزپارٹی سمیت اپوزیشن اراکین کی جانب سے نعرے بازی کی گئی، حکومتی اراکین کے جواب دینے کی کوشش پر ایوان میں گرما گرمی کا ماحول پیدا ہو گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ عمران خان جب وزیراعظم بنے تو انہوں نے کہا کوئی این آر او نہیں دوں گا لیکن جتنے این آر او عمران خان نے دیئے، کسی آمر نے بھی نہیں دیئے۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن مانتا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشتگردی کرتا تھا، اعتراف جرم کے باوجود اس کو این آر او دیا جا رہا ہے۔
بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی پائلٹ جو حملہ کر کے گرا، اسے بھی چائے پلا کر واپس بھیج دیا، جہانگیر ترین، بی آرٹی کو بھی این آر او ملا، بلین ٹری سونامی، چینی، آٹا چوری پر بھی این آر او دیا گیا۔


