تاجر دوست اسکیم کے نام پر مزید ٹیکس ادا نہیں کریں گے، مرکزی تنظیم تاجران پاکستان

اسلام آباد، کوئٹہ (پ ر) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چودھری، مرکزی سیکرٹری جنرل سید عبدالقیوم آغا، مرکزی ترجمان ضیاءاحمد راجہ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات سیف الدین نثار، مرکزی ایگزیکٹو رکن کاشف حیدری و دیگر رہنماﺅں نے تاجر دوست اسکیم کے نام نہاد اور تاجر دشمن ٹیکس کے نوٹیفکیشن مسترد کردیا۔ تاجروں نے ایف بی آر اور حکومت کو پہلے ہی اس نام نہاد تاجر اسکیم کے خدشات اور تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا، پاکستان کے تاجر کسی صورت تاجر دوست اسکیم کا نوٹیفکیشن نہیں مانتے، اس کیخلاف پاکستان بھر میں سخت احتجاج کریں گے۔ آئی ایم ایف کی شرائط پر پاکستان کے تاجروں پر بلاجواز ٹیکس کے خاتمے تک احتجاج کریں گے۔ مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے رہنماﺅں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ پاکستان بھر کی تاجر برادری ایف بی آر کی طرف سے تاجر دوست ٹیکس ویلویشن ٹیبل کو یکسر مسترد کرتی ہے اور ایف بی آر سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فوری طور پر ایس آر او واپس لے ورنہ پاکستان بھر میں شٹرڈاﺅن کردیں گے۔ یہ ایس آر او کسی بھی صورت میں قابل عمل نہیں ہے۔ تاجر رہنماﺅں نے کہا کہ ہم نے تجاویز دیں تھیں ان پر غور ہی نہیں کیا گیا۔ تاجروں کی آڑ میں بلیک میلر کو بٹھا کر تاجروں کے گلے میں پھندا ڈال کر تاجروں کا سودا کیا، تاجروں کے نام پر ایف بی آر کے چمچے اور خود ساختہ ترجمان فوری طور پر استعفیٰ دے دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نان فائلرز اپنے بجلی کے بلوں میں ایڈوانس انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ تاجر کسی صورت مزید ایڈوانس انکم ٹیکس جمع نہیں کرائیں گے، اس اسکیم سے ایف بی آر میں کرپشن کے راستے کھلیں گے۔ تاجر رہنماﺅں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں احتجاج کی کال اور شٹر ڈاﺅن کی تاریخ کے لئے پاکستان بھر کے نمائندوں سے مشاورت جاری ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی مخصوص لابی ملک کے معاشی حالات خراب کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ ملک بھر سے تاجروں کی لائحہ عمل اور مشاورت کے بعد سخت احتجاج اور شٹر ڈاﺅن ہڑتال کا اعلان کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں