گوادر میں زندگی مفلوج، دھرنے میں آل پارٹیز کی شرکت، انتظامیہ سے مذاکرات ناکام

گوادر (بیورو رپورٹ) بلوچ یکجہتی کمیٹی کا گوادر میں جاری دھرنا پانچویں دن میں داخل۔ ہزاروں لوگوں سمیت خواتین بھی شریک۔ آل پارٹیز کی جانب سے ثالثی کیلئے ضلعی انتظامیہ اور بی وائے سی کے قائدین سے ملاقات و مذاکرات۔ گزشتہ شب ہونیوالے مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار۔ بی وائے سی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ،سمیع دین بلوچ،صبغت اللہ بلوچ ،ڈپٹی کمشنر حمودالرحٰمن رانجھا، ڈی آئی جی مکران رینج پولیس ڈاکٹر زاہد فرحان، ایس ایس پی نجیب اللہ پندرانی، آل پارٹیز کمیٹی کی جانب سے نیشنل پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن اشرف حسین، ضلعی صدر غفور ہوت، بی این پی کے ضلعی صدر ماجد بلوچ، حق دو تحریک بلوچستان کے صدر حسین واڈیلہ، جنرل سیکرٹری حفیظ کیازئی، بی این پی عوامی کے سیکرٹری جنرل سعید فیض، جے یوآئی کے ضلعی امیر مولاما عبدالحمید انقلابی شریک رہے۔ مذاکرات کے پہلے مرحلے میں تمام نکات پر اتفاق کیا گیا جس میں تمام گرفتارشدگان کی رہائی، ایف آئی آر کے خاتمہ، قومی اجتماع میں شریک بی وائے سی کارکنان سمیت تمام شرکا کیخلاف کارروائی نہ کرنے، تمام بند شاہراہوں کو کھولنا اور قومی اجتماع میں شریک شرکا کے سامنے واپسی کیلئے رکاوٹیں کھڑی نہ کرنا شامل تھے۔ تاہم ذرائع کے بعد ازاں انتظامیہ کی جانب سے تحریری صورت میں معاہدہ نکات میں ایف آئی آر کے اندراج کے نقطہ کو مشروط کیا گیا، جس سے مذاکرات میں ڈیڈلاک پیدا ہوا، جو آج بھی برقرار رہا، تاہم ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دوبارہ آل پارٹیز سے رابطہ کرکے مذاکرات کیلئے وفد بھیجا گیا۔ وفد نے بی وائے سی کے قائدین ڈاکٹر مہرنگ بلوچ،سمی دین بلوچ،اور صبغت اللہ بلوچ سے ملاقات کرکے مذاکرات کیے۔ اس موقع پر ماہ رنگ بلوچ نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات منظور نہیں کیے گئے تو ہم آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، حالات کی تمام تر ذمہ داری ریاست پر ہوگی۔ گوادر شہر میں گزشتہ پانچ دن سے شہری زندگی مکمل طور پر مفلوچ ہے، نیٹ اور نیٹ ورک مکمل طور پر بند ہیں، میرین ڈرائیور پر رکاوٹیں کھڑی کرکے دھرنا کی جانب جانے والے تمام راستوں کو بند کیا گیا ہے، میرین ڈرائیو پر لگی اسٹریٹس لائٹس کی بڑی تعداد اکھاڑ کر سڑک کو ٹریفک کیلئے مکمل بند کیا گیا ہے۔ جبکہ بی اینڈ آر کے دفتر کو گزشتہ روز آگ لگا کر مکمل خاکستر کیا گیا۔ دھرنے میں خواتین کی بڑی تعداد شریک ہے، بازار میں دکانیں بند ہونے کے سبب اشیائے خورونوش کی قلت بھی پیدا ہوگئی ہے جبکہ تربت میں ڈی بلوچ پر بھی دھرنا جاری ہے، جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہیں۔ صوبائی وزیر پی اینڈ ای ظہور احمد بلیدی نے جاکر مذاکرات کیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں