کراچی، بی وائی سی کی ریلی پر پولیس کا کریک ڈاؤن ، فوزیہ بلوچ سمیت50 سے زائد کارکنان گرفتار
کراچی ( نمائندہ انتخاب ) بلوچ یکجہتی کمیٹی کے شرکاء پر سندھ پولیس کا بدترین تشدد، پچاس کے قریب بلوچ خواتین اور مرد کو حراست میں لیا گیا۔ سیاسی کارکنوں اور خواتین کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا انہیں پولیس موبائلوں میں ڈالا گیا۔ تشدد کے بعد انہیں تھانے منتقل کردیا گیا۔جعہ کے روز بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے "بلوچ راجی مچی” پر پولیس تشدد، حراستوں اور قافلوں پر تشدد کے خلاف کراچی میں ریلی نکال رہے تھے۔ ریلی کے شرکاء نے آرٹس کونسل کراچی سے کراچی پریس کلب تک مارچ کرنے کی تیاریاں کررہے تھے کہ پولیس نے ان پر دھاواں بول دیا اور ان پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ تاہم گرفتاری کے بعد بھی ایک اور مظاہرین کی بڑی تعداد نے آرٹس کونسل کے قریب دھرنا دیا ہوا۔ جو تاحال دھرنا جاری ہے۔ کراچی میں پولیس گردی کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ترجمان کی جانب جاری پریس ریلیز میں ترجمان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے اور یہ حق آئین فراہم کرتا ہے۔ افسوس ہے کہ آئین کی پاسداری خود حکومت نہیں کررہی ہے عوام کو جمہوری حق سے نہ صرف محروم کر رہی ہے بلکہ سنگین تشدد سے تمام تر روایات و اقدار کو پامال کرنے میں مصروف عمل ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہاہےکہ احتجاجی ریلی میں خواتین بچے اور بزرگ بھی شامل تھے ان کو سڑکوں پر گھیسٹا گیا و شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ظلم و ناانصافی کی انتہا کو مزید چھوتے ہوئے خواتین اور نوجوانوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ج و کہ نام نہاد جمہوری نظام کی آمرانہ انداز طرز حکومت ہے۔جو کسی طور پر قبول نہیں۔ بیان میں کہاگیا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور سیاسی مسائل کا حل بات چیت سے نکالا جاتا ہے۔طاقت کے استعمال ماضی میں بھی نقصان کا باعث تھا اور آج بھی۔انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کا مسلہ انسانی حقوق سے منسلک ہے اس لیے لاپتہ افراد کو آئین کے مطابق عدالتوں میں پیش کی جائے اور آمرانہ رویہ کو ختم کیا جائے۔


