خطے میں جنگ کو بڑھانا نہیں چاہتے مگر اسرائیل کو سزا دینا ضروری ہے،ایران
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے غزہ میں دو اسکولوں پر صیہونی فوج کی بمباری کی مذمت کی ہے جس میں دسیوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ناصر کنعانی نے اپنی ایکس پوسٹ پر لکھا ہے کہ غزہ پٹی میں صیہونیوں کے تازہ ترین جنگی جرائم میں، غزہ شہر کے شمال مغرب میں النصر اور حسن سلامہ اسکولوں پر بمباری کے نتیجے میں 25 سے زائد بے گھر فلسطینی شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنی ایکس پوسٹ میں واضح کیا کہ صیہونیوں کے خوفناک مظالم اور فلسطین میں جنگی جرائم اور نسل کشی نیز علاقائی سطح پر بزدلانہ قتل وغارت گری کے باوجود فلسطینی علاقوں اور علاقائی سطح پر اسٹریٹجک توازن کبھی بھی صیہونی حکومت اور اس کے وہم زدہ حامیوں کے حق میں نہیں ہو گا اور دنیا کی حریت پسند اقوام کے دلوں میں بھرا ہوا غصہ صیہونی مجرموں اور ان کے حامیوں کو تباہ کر دے گا۔عرب میڈیا کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کی طرف سے سے کہا گیا ہے کہ ایران خطے میں جنگ کے پھیلا وپر یقین نہیں رکھتا ہے اور نہ ہی عدم استحکام کی فضا میں اضافہ کرنا چاہتا ہے،لیکن اسرائیل کو سزا دینا ضروری ہے ۔ ایران کی طرف سے یہ بیان پیر کے بروز سامنے آیا ہے۔ایک روز قبل گروپ سیون کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ مشرق وسطی کے فریقین کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کریں۔گروپ سیون کا یہ اجلاس اٹلی کی زیر صدارت ہوا تھا، جس میں شرق اوسط کی تازہ صورت حال کا جائزہ لیا گیا ۔حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کو بدھ کے روز تہران میں اچانک قتل کر کے علاقے میں پہلے سے چلی آرہی کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا گیا۔ تاہم پیر کے روز ایران نے اپنے بیان میں یہ کہہ کر ماحول کو قدرے بہتر کرنا چاہا ہے کہ’ وہ جنگی پھیلا وکی طرف نہیں ہے۔


