حب، فیکٹری میں کام کے دوران مزدوروں کی پراسرار ہلاکتیں معمہ بن گئیں

حب(نمائند ہ انتخاب ) حب اٹک سیمنٹ فیکٹری میں کام کے دوران ایک ہی ہفتے میں دو محنت کشوں کی ہلاکت معمہ بن گیا دونوں مزدور پرائیوٹ فرمز کے کنٹریکٹ پر کام کر رہے تھے پولیس کاروائی اتفاقی حادثہ زیر دفعہ 174اور لیبر ویلفیئر اینڈ سیفٹی کی کاروائی فارم Jتک محدود تحقیقات میں پیش رفت نہ ہوسکی پرُاسرار واقعات میں ایک واقعہ جمعرات کے روز جبکہ اس سے قبل 8اگست کو ہوا تھا نعش کے جسم پر ظاہر کسی چوٹ کے نشان ن بھی نہیں پائے گئے پولیس اور اسپتال ذرائع کا انکشاف اس سلسلے میں بتایا جاتا ہے کہ حب کے قریب ساکران میں واقع اٹک سیمنٹ فیکٹری صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے دو محنت کشوں کی ہلاکت ایک ہی ہفتے میں یکے بعد دیگر دو پُر اسرار واقعات کے رو نما ہوئے ہیں دونوں ہلاکتوں کی وجوہات اونچائی سے گرنا بتائی جاتی ہیں گزشتہ روز فیکٹری کی زیر تعمیر لائن 4پر کلر کرنے والا لیاقت علی ولد فتح خان ساکن عیسیٰ خیل میانوالی جوکہ ایک پرائیوٹ فرم TDFCکا کنٹریکٹ ملازم تھا اونچائی سے گرنے کے سبب جاں بحق ہو گیا اس سلسلے میں پولیس اور اسپتال ذرائع بتاتے ہیں کہ متوفی کے جسم پر ظاہری طور پر کسی چوٹ کا نشان نہیں تھا جبکہ قبل ازیں 8اگست کو حمزہ انجینئرنگ سروس فرم کا ملازم فیکٹری کی لائن تھری پر کام کرنے والا 25سالہ پرویز احمد ولد مختیار ساکن صادق آباد ضلع رحیم یار خان تقریباً25 فٹ سے زائدا ونچائی سے گر گر دم توڑ گیا رابطہ کرنے پر کمپنی انتظامیہ کے ذمہ دار آفیسر نے بتایا کہ ہلاک ہونیو الے دونوں مزدور پرائیوٹ فرمز کے کنٹریکٹ پر فیکٹری میں کام کر رہے تھے واضح رہے کہ ایک ہی ہفتے میں یکے بعد دیگر دو محنت کشوں کی مبینہ پُر اسرار موت پر لیبر ڈیپارٹمنٹ کے ویلفیئر اینڈ سیفٹی ونگ اور ساکران پولیس کی جانب سے تحقیقات کرنے اور اصل حقائق کو سامنے لانے کے لئے اقدامات اٹھانے کے بجائے پولیس نے اتفاقیہ حادثہ کی زیر دفعہ 174ت پ اور لیبر ڈیپارٹمنٹ نے فارم جے(J) تک کاروائی کو محدود کر کے معاملے کو سرد خانے کی نذر کر دیا ہے دونوں مبینہ پُر اسرار واقعات کے محرکات کا جائزہ لینے اور حادثات وواقعات سئے بچنے کیلئے حفاظتی اقدامات کے پیشگی اقدامات کے بارے میں ٹھیکیدار کمپنی انتظامیہ اور پرائیوٹ فرمز کے ذمہ داروں سے پوچھ گچھ کرنے کے بجائے معاملات کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے جوکہ حکومتی اداروں کی مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے اس حوالے سے پولیس اور لیبر ڈیپارٹمنٹ کے اعلٰی حکام کو مذکورہ دونوں مبینہ پُر اسرار واقعات کے بارے میں از سر نو تحقیقات کرانے کیلئے فوری نوٹس لینا چاہئے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں