ہراسگی اسکینڈل:وائس چانسلر قرار واقعی سزا کا مستحق ہے
جامعہ بلوچستان کے ہر اسگی اسکینڈل کی پہلے مرحلے پر ایف آئی اے نے رپورٹ تیار کی اورجامعہ کی طالبات کی دو خفیہ کیمروں سے 12ویڈیوز کی تیاری سے وائس چانسلر(سابق) تک پہنچانے کے تمام ذمہ داروں کاتعین کرتے ہوئے اپنی سفارشات سنڈیکیٹ کو فراہم کردیں۔اطلاعات کے مطابق سنڈیکیٹ نے سفارشات کی روشنی میں دو ملازمین کو برطرف، دو کے دو دو سال کی انکریمنٹ روکنے کے علاوہ اسکینڈل کے مرکزی کردار(سابق وائس چانسلر)کے خلاف گورنر بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے اس گھناؤنے جرم کے تمام شواہد مل جانے کے بعد ضروری ہو گیا ہے کہ ملزم کے خلاف جوڈیشل انکوائری کرائی جائے اور اس سے تمام ایوارڈز اور ٹائٹلز واپس لئے جائیں۔سنڈیکیٹ کے پاس وائس چانسلر کے خلاف کارروائی کرنے اختیارات نہیں ہیں اس لئے سنڈیکیٹ نے اپنی سفارشات گورنر بلوچستان کو بھیج دی ہیں۔یاد رہے کہ اسکینڈل سامنے آنے کے بعد بلوچستان کی طلباء یونینز نے بھرپور احتجاج کیا تھااور اسکینڈل کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔اگر طلباء یونینز احتجاج نہ کرتیں تو وائس چانسلر کے ہمدرداورکاسہ لیس ان کی بیگناہی کے گن گاتے ہوئے سرگرم ہو گئے تھے۔بلوچستان کی تعلیمی پسماندگی کا سبب یہی خوشامدی ٹولہ ہے جو ہر کرپٹ افسر کے گرد ہالہ بنائے اس کے عیب چھپانے میں مصروف رہتا ہے۔کسی بھی یونیورسٹی کے لئے اس سے زیادہ شرمناک اور کون سی بات ہو سکتی ہے کہ یونیورسٹی کا رجسٹرار بھی اس شرمناک کھیل میں معاون نکلے۔ٹرانسپورٹ افسر تو عموماً کم تعلیم یافتہ اور جرائم پیشہ ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں۔منشیات فروشی میں ملوث پائے جاتے ہیں۔سنڈیکیٹ کی سفارشات دیکھ کر حیرت ہوتی ہے،دو سال کا انکریمنٹ روکنا بھی کوئی سزا ہے؟ اگر سنڈیکیٹ کے کسی ممبر کی بیٹی کی ایسی نازیبا ویڈیوز بنائی جاتیں۔ اسے وائس چانسلر بلا کر اسی طرح بلیک میل کرنے اور جنسی ہراسگی کا مرتکب ہوتا۔ کیا اس وقت بھی وہ دو سال کی انکریمنٹ روکنے کی سزا مناسب سمجھتے؟
ہماری معاشرتی تباہی کے بڑے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ مظلوم کا ساتھ دینے کی بجائے مجرموں کے ہمدردوں کی خوشنودی ہمیں زیادہ پیاری ہوتی ہے۔وائس چانسلر کسی بھی صوبائی سطح کے اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے کا سربراہ ہوتا ہے۔ ایسا گھناؤنا جرم تو کسی دور افتادہ علاقے کے پرائمری اسکول ٹیچر کو بھی زیب نہیں دیتا۔علاقے کے لوگ اطلاع ملتے ہی ایسے بدکردار شخص کو مار مار کراد ھ مؤا کردیتے ہیں۔پولیس اسے بچانے پہنچتی ہے۔سنڈیکیٹ کی سفارشات میں ان حمائتیوں کا سرے سے کوئی ذکر نہیں جو ایک بد کردار وائس چانسلر کو پارسا ثابت کرنے میدان میں اترے تھے۔ رجسٹرار اور وائس چانسلر دونوں ایک جیسی سزا کے مستحق ہیں۔سنڈیکیٹ کے ہر ممبر کو یہ اسکینڈل یہ سوچ کر دیکھنا تھا کہ ہراساں کی گئی ہر بیٹی اس کی سگی بیٹی ہے۔سفارش کردہ سزائیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سنڈیکیٹ کے ممبرز ملکہئ برطانیہ کے نامزد کردہ افراد تھے جو جلیانوالہ باغ (امرتسر) کے قاتلوں کو بچانے کی رپورٹ تیار کرنے پر مامور تھے۔انہیں مقتولین کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں تھی۔مظلوم بیٹی کے غیرت مند باپ والا کردار ان سفارشات میں نظر نہیں آتا۔اگر بیٹیوں کی ناموس کی پامالی پر اسی طرح بے حسی روا رکھی گئی تو سنڈیکیٹ کے تمام ممبر یاد رکھیں کل بلوچستان کی کسی یونیورسٹی میں کسی بیٹی کی آبرو محفوظ نہیں رہے گی۔دوسال کی انکریمنٹ روکنے کو سزا سمجھنے والوں کو یاد رہے سانپ پالنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔کراچی،سندھ اور بلوچستان میں لاقانونیت کی سرپرستی کرنے والے آج معاشرے سے منہ چھپائے پھرتے ہیں۔گزشتہ کل جس شخص کی انگلی کے اشارے پر شہر میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی جاتی تھی آج اس کا نام زبان پر لانے کی کسی میں ہمت نہیں۔ اس نے بھی کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں میں اسکولوں میں جرائم کو فروغ دیا تھاآج جعلی اسناد والوں کو پی آئی سے برطرف کیا جا رہا ہے کہ ادارہ بچ سکے۔
ایف آئی اے کی تیار کردہ ہراسگی اسکینڈل رپورٹ پبلک کی جائے تاکہ والدین کو علم ہو سکے کہ لاقانونیت کے اس شرمناک کھیل میں کس شخص کا کتنا کردار تھا؟ سیکیورٹی والوں میں سے کس کے کہنے پر دو خفیہ کیمرے انسٹال کئے گئے تھے؟نازیبا ریکارڈنگ کا حکم کس نے دیا تھا؟رجسٹرار یونیورسٹی اس میں کس حد تک ملوث پایا گیا؟تمام تفصیلات سامنے لائی جائیں۔ یہ چار سطری خبر اتنے سنگین جرم کو چھپانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔طلباء یونینز کو بھی ایسے شرمناک واقعات کی روک تھام کے لئے سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیئے۔دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ سنڈیکیٹ نے بلوچستان کی مظلوم بیٹیوں کے سر پر ہاتھ نہیں رکھا مجرموں کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کو بھی اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لینے کی ضرورت ہے۔بلوچستان کی بیٹیوں کو تعلیم کی دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ضرورت ہے۔یونیورسٹیوں میں ہراسگی کی روک تھام نہ کی گئی تو والدین بیٹیوں کو یونیورسٹی جانے سے روک دیں گے۔چند قانون شکن افراد کی خوشنودی کے لئے صوبے کے تعلیمی ماحول کو رسوا کرنا دانشمندی نہیں۔تعلیمی اداروں کاتقدس پامال کرنے والوں کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کی جائے۔ یونیورسٹی کی تقدیس ختم ہو گئی تو کوئی ادارہ نہیں بچے گا۔ہراسگی اسکینڈل کی رپورٹ ایف آئی اے سے منگوا کر وزیر اعلیٰ خود پڑھیں سنڈیکیٹ کی سفارشات مجرموں کی سرپرستی کے مترادف ہیں۔انہیں سختی سے مسترد کیا جائے۔جوڈیشل کمیشن بنایا جائے جرم کی سنگینی کو نظرانداز نہ کیاجائے۔


