مشتعل عناصر نے زبردستی چمن بارڈر عبور کرنے کی کوشش کی۔افغان حکومت سرحدوں کو محفوظ بنانے کیلئے تعاون کرے، شبلی فراز
وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے چمن میں فرینڈ شپ گیٹ بارڈر کراسنگ پر حالیہ واقعہ پر کہا کہ عید اور کورونا وائرس کی وجہ سے کچھ سرحدی راستے بند کیے گئے لیکن بعض مشتعل عناصر نے زبردستی چمن بارڈر عبور کرنے کی کوشش کی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ سرحدی نظام کو مربوط بنانے کے لیے انتظامات کیے جارہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سرحدوں کو بین الاقوامی قواعد کے مطابق تحفظ دیں گے تاکہ معلوم ہوسکے کون آرہا ہے اور کون جارہا ہے۔
سینیٹر شبلی فراز نے افغان حکومت سے درخواست کی کہ وہ سرحدی علاقوں کو محفوظ کرنے کے لیے تعاون کریں۔
علاوہ ازیں وفاقی وزیر نے کہا کہ کچھ لوگوں نے عوام کو اکسایا اور زبردستی سرحد عبور کرنے کی کوشش کی اور کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا جس کے نتیجے میں سیکیورٹی کی جانب سے ردعمل سامنے آیا۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم سمجھتے ہیں دونوں برادر ممالک ہیں اور تاریخی تعلق رہا ہے اور اس کے ساتھ ہم نے افغان بھائیوں کے لیے ضروری اشیا کی امپورٹ تھی اس میں تعاون کیا’۔
سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور طالبان کے مابین امن معاہدے میں مثبت کردار ادا کیا، ہم سمجھتے ہیں سرحدوں سے متعلق معاملات میں بین الاقوامی قوانین کا اطلاق ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ سرحدی راستہ بند ہونے کی وجہ سے اسمگلر کے مالی مفاد کو نقصان پہنچا اور انہوں نے لاقانیت کی صورتحال پیدا کی تاکہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان حکومت اور عوام کے ساتھ رشتہ مضبوط کریں گے اور کوشش ہوگی کہ علاقائی صورتحال کو قابو کرسکیں اور مستقبل میں ایسا ماحول پیدا نہ ہو۔
واضح رہے کہ 31 جولائی (آج) چمن میں فرینڈشپ گیٹ بارڈر کراسنگ پر مشتعل مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ میں ایک خاتون سمیت کم از کم 3 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے تھے جبکہ پاکستان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان زبردست فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا تھا کہ جمعرات کو بڑی تعداد میں لوگوں نے اکٹھے ہوکر سرحد عبور کرنے کے ارادے سے فرینڈشپ گیٹ پر دھرنا دیا۔
فرنٹیئر کورپس (ایف سی) کے اہلکاروں نے انہیں گیٹ سے ہٹ جانے کو کہا تاہم انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تھا۔
ایف سی حکام نے انہیں بتایا تھا کہ مظاہرین کی منتقلی تک گیٹ نہیں کھولا جائے گا۔
دریں اثنا خواتین اور بچوں سمیت افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد بھی افغانستان میں داخل ہونے کے لیے وہاں جمع ہوگئی تاہم جب سرحدی عہدیداروں نے گیٹ نہیں کھولا تو مظاہرین مشتعل ہوگئے اور فرینڈشپ گیٹ پر واقع ایف سی اور دیگر سرکاری اداروں کے دفاتر پر حملہ کیا اور ایف سی اور نادرا کے دفاتر کو آگ لگا دی۔
بعد ازاں مظاہرین چمن شہر کی جانب گئے جہاں انہوں نے زبردستی تمام بازار اور شاپنگ مال بند کرادیے اور سڑکیں بند کردیں۔


