جام کمال کی تمام ڈیموں کے ساتھ پچاس سے سو ایکٹر رقبہ جنگلات لگانےکی ہدایت
کوئٹہ : وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے صوبے میں تعمیر ہونے والے تمام ڈیموں کے ساتھ پچاس سے سو ایکٹر رقبہ جنگلات لگانے کے لئے مختص کرنے اور اسے باقاعدہ منصوبے کا حصہ بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر علاقے کی موزوعیت کے مطابق شجر کاری کرکے ماحولیاتی تحفظ کے لئے گرین ہاؤس کے اثرات پیدا کئے جاسکیں گے، وزیراعلیٰ نے ڈیموں کے کمانڈ ایریا کی سرکاری اراضی کو زرعی مقاصد کے استعمال کے لئے لیز پر دینے کی ہدایت بھی کی ہے جبکہ انہوں نے مستقبل میں کوئٹہ کیلئے پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مانگی ڈیم کی جلد تکمیل اور بابر کچھ ڈیم کے مجوزہ منصوبے کے ساتھ ساتھ دیگر موزوں مقامات پر ڈیموں کی تعمیر کے منصوبے تجویز کرنے اور صوبے کے دیگر علاقوں میں بڑے ڈیموں کی تعمیر کی فزیبیلیٹی اسٹڈی تیار کرنے کی ہدایت بھی کی ہے، وزیراعلیٰ صوبے میں ڈیموں کی تعمیر کے منصوبوں کی پیشرفت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کررہے تھے جس میں محکمہ آبپاشی کی جانب سے بریفنگ دی گئی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی وترقیات، سیکریٹری آبپاشی، سیکریٹری خزانہ اور متعلقہ شعبہ کے دیگر حکام نے اجلاس میں شرکت کی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈیموں کی تعمیر سے زراعت، مالداری اور آبنوشی کے شعبوں کی ترقی ہوگی جس سے معیشت میں بہتری آئے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، وزیراعلیٰ نے ڈیموں کے کمانڈ ایریا کی ترقی کے عمل کو بھی تیز کرنے کی ہدایت کی، انہوں نے کہا کہ بلوچستان بنیادی طور پر خشک سالی کا شکار صوبہ ہے اور اس کا زیادہ تر حصہ بارانی ہے جہاں زراعت اور مالداری کا انحصار بارشوں پر ہے تاہم ڈیم نہ ہونے کے باعث بارشوں اور سیلاب کا پانی ضائع ہوجاتا ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسٹوریج اور چیک ڈیموں کی تعمیر سے نہ صرف پانی کو ذخیرہ کرنا ممکن ہوسکے گا بلکہ زیر زمین پانی کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوگا، سیکریٹری آبپاشی نے اجلاس کو زیر تعمیر بڑے ڈیموں کے منصوبوں کی پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اورماڑہ میں 9636ملین روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے بسول ڈیم کا 78فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے جہاں سے اورماڑہ ٹاؤن اور جناح نیول بیس کو بذریعہ پائپ لائن پانی کی فراہمی شروع کردی گئی ہے اور کمانڈ ایریا کی ترقی کے لئے واٹر کورسز کی تعمیر کا کام جاری ہے، انہوں نے بتایا کہ خاران میں 10512ملین روپے کی لاگت سے گروک ڈیم کی تعمیر کا کام جاری ہے، ڈیم میں 51540ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جاسکے گا اور کمانڈ ایریا کی 12500ایکٹر اراضی قابل کاشت بنائی جاسکے گی۔ انہوں نے بتایا کہ قلعہ سیف اللہ میں 4345ملین روپے کی لاگت سے زیر تعمیر طوئے ور بتوزئی ڈیم آئندہ سال جون میں مکمل کرلیا جائے گا جس کا کمانڈ ایریا 16500ایکڑ ہے، انہوں نے بتایا کہ وندر ڈیم پر بھی جلد کام کا آغاز ہوگا، اس ڈیم سے بجلی پیدا کرنے کے لئے ہائیڈرو پاور پلانٹ کے قیام کا منصوبہ بھی زیر غور ہے، سیکریٹری آبپاشی نے کوئٹہ کے گردونواح اور صوبے کے دیگر علاقوں میں سو ڈیمز پروجیکٹ کے تحت تعمیر ہونے والی ڈیموں کی پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے ڈیموں کے سیٹلائٹ ایمجز بھی پیش کئے اور مختلف مجوزہ ڈیموں کے منصوبوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔


