طلبا کو خاموش کرنے کے بجائے انہیں بااختیار بنایا جائے، ثنا بلوچ

کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق رکن اسمبلی ثنا بلوچ نے بلوچستان ہائی کورٹ کے طلبا یونینز پر پابندی برقرار رکھنے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبا یونینز اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا طلبا کا بنیادی اور تسلیم شدہ حق ہے، جو دنیا کی تمام بڑی جمہوری درسگاہوں میں رائج ہے، بشمول آکسفورڈ جیسی معروف یونیورسٹیاں ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ طلبا یونینز قیادت، تنقیدی سوچ، اور شہری ذمہ داری کو فروغ دیتی ہیں، جو کسی بھی جمہوری معاشرت کا اہم جزو ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 20 دسمبر 2019 کو انہوں نے بلوچستان اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی تھی، جس میں طلبا یونینز پر عائد پابندی کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھاثنا بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچستان اسمبلی نے طلبا کی جمہوری سرگرمیوں کی اہمیت کو تسلیم کیا تھا، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ طلبا کو خاموش کرنے کے بجائے انہیں بااختیار بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جمہوریت کا مستقبل طلبا کی آزادی اور شمولیت پر منحصر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں