بلوچستان کے نازک صورتحال میں غیر ذمہ دارانہ بیانات اور غیر دانشمندانہ اقدامات جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہیں، جے یو آئی

کوئٹہ(این این آئی)جمعیت علماءاسلام بلوچستان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے موجودہ حالات نہایت حساس اور نازک ہیں اس گھمبیر صورتحال میں غیر ذمہ دارانہ بیانات اور غیر دانشمندانہ اقدامات جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہیں جمعیت علماءاسلام سمجھتی ہے کہ ایسے وقت میں محاذ آرائی کے بجائے اتحاد، مفاہمت اور دانشمندانہ حکمت عملی ہی وہ راستہ ہے جو صوبے کو مزید بحرانوں سے بچا سکتا ہے۔جمعیت علماءاسلام کا موف ہمیشہ واضح اور دوٹوک رہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے حقیقی اور بااختیار نمائندوں کو شامل کیا جائے۔ زمینی حقائق سے ناواقف، غیر متعلقہ اور نام نہاد شخصیات کو آگے لا کر معاملات کو پیچیدہ کرنے کی روش ترک کی جائے۔ عوام کے حقیقی اور قابلِ اعتماد رہنماوں کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا ہی دیرپا حل کی جانب پہلا قدم ہوگا۔ امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہونی چاہیے کیونکہ روزانہ بے گناہ شہریوں کی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ اگر عوام کو فوری اور موثر تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو صورتحال قابو سے باہر ہونے کا خدشہ ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام طبقات سنجیدگی اور بردباری کا مظاہرہ کریں اور غیر ذمہ دارانہ بیانات، دھمکی آمیز رویوں اور اشتعال انگیز اقدامات سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ تصادم، ضد اور محاذ آرائی کی بجائے بات چیت، افہام و تفہیم اور مسائل کے دیرپا حل کی طرف پیش قدمی ناگزیر ہے جمعیت علماءاسلام نے ہمیشہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے مخلصانہ اور حقیقت پسندانہ تجاویز پیش کیں، لیکن بدقسمتی سے انہیں سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ اگر بروقت دانشمندانہ فیصلے کیے جاتے تو آج حالات اس نہج پر نہ پہنچتے۔بیان میں کہا گیاہے کہ یہ اب کوئی مبہم بات نہیں رہی ہے کہ بلوچستان مزید کسی نئے سیاسی یا انتظامی تجربے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ماضی کے ناکام تجربات کا خمیازہ عوام نے بھگتا، اور اب وقت آ گیا ہے کہ سنجیدگی، تدبر اور حقیقت پسندی سے فیصلے کیے جائیں۔ غیر منطقی اور غیر عملی پالیسیوں کو ترک کرکے ایک مو¿ثر اور قابلِ عمل حکمت عملی اپنانا ہوگی، تاکہ صوبے کو مزید انتشار سے بچایا جا سکے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعیت علماءاسلام بلوچستان ایک منظم، عوامی اعتماد کی حامل اور صوبے کے ہر طبقے میں یکساں مقبول جماعت ہے۔ اس نے ہمیشہ عوامی حقوق، امن و استحکام اور ترقی کے لیے جدوجہد کی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ عید کے بعد صوبے کے مسائل کے حل کے لیے عملی اور نتیجہ خیز کوششوں کا آغاز کیا جائے گا۔ جمعیت علماءاسلام اپنے سیاسی تجربے، عوامی اعتماد اور مو¿ثر حکمت عملی کے ذریعے بلوچستان کے مسائل کے دیرپا حل کے لیے کلیدی کردار ادا کرے گی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم تمام زمہ داران سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ دانشمندی، تدبر اور زمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ غیر ضروری بیانات اور غیر سنجیدہ اقدامات سے مکمل گریز کیا جائے، کیونکہ صوبہ مزید کسی غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ بلوچستان کے عوام کو اپنانا ہوگا، نفرتوں اور دوریوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے، اور مستقل بنیادوں پر عوامی تحفظات کو دور کرنا ہوگا۔ جمعیت علماءاسلام بلوچستان کے حقوق، امن، ترقی اور استحکام کے لیے اپنی بھرپور اور نتیجہ خیز جدوجہد جاری رکھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں