شمالی وزیرستان، میر علی میں مبینہ ڈرون حملے میں لاشوں کے ہمراہ جاری دھرنا معاہدے کے بعد ختم ہوگیا

ویب ڈیسک :میر علی میں گزشتہ ہفتے مشتبہ ڈرون حملے کے خلاف دھرنا دینے والے مقامی افراد نے منگل کے روز مقامی انتظامیہ کے ساتھ معاہدے کے بعد احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا۔شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں مشتبہ ڈرون حملے کے خلاف مقامی افراد کا دھرنا گزشتہ 7 روز سے جاری تھا جب کہ مظاہرین نے مطالبات نہ مانے جانے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان بھی کیا تھا۔میر علی کے گاؤں ہرمز میں 19 مئی کو مبینہ ڈرون حملے میں ایک ہی خاندان کے 4 بچے جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔میر علی کے مقامی افراد مشتبہ حملے کے بعد انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے جس کے لیے وہ کئی دن سے دھرنا دیے بیٹھے تھے۔رواں ہفتے کے آغاز میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے وضاحت جاری کی تھی کہ سیکیورٹی فورسز کو اس واقعے میں غلط طور پر ملوث کیا گیا ہے، اور اصل کارروائی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے کی تھی۔احتجاج کے منتظمین میں سے ایک علامہ اقبال داوڑ نے ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مظاہرین اور حکام کے درمیان کئی بات چیت کے بعد پیر کی رات ایک معاہدہ طے پا گیا۔معاہدے کے بعد جاں بحق بچوں کی تدفین کر دی گئی ہے اور مظاہرین کی جانب سے بند کی گئی سڑکیں دوبارہ کھول دی گئی ہیں جب کہ حکام جلد متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کریں گے اور معاوضے سے متعلق اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔علاوہ ازیں، جرگے کے ترجمان مفتی بیت اللہ نے بھی ڈان ڈاٹ کام کو موصول ویڈیو میں مظاہرین سے خطاب کے دوران معاہدے کا اعلان کیا، ویڈیو میں وہ جرگہ ممبران کے مثبت کردار کو سراہتے نظر آئے۔جب ڈان ڈاٹ کام نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر وقار احمد سے رابطہ کیا تو انہوں نے معاہدے کی تصدیق کی، تاہم اس کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔اسی طرح، میر علی کے تحصیلدار شیر بہادر نے بھی بتایا کہ 4 نکاتی معاہدہ طے پایا ہے، لیکن انہوں نے بھی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔تاہم، شمالی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر محمد یوسف کریم نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے قبائلی عمائدین سے تفصیلی بات چیت کی ہے اور انہیں یقین دہانی کروائی ہے کہ حکومت اور فوج شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران مقامی شہریوں کی حفاظت کو ’انتہائی سنجیدگی‘ سے لے گی۔گزشتہ ہفتے مقامی مشران نے دھمکی دی تھی کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں