بجٹ میں 6 ہزارآسامیاں منسوخ کرنا صوبے کے بیروزگاروں کے امیدوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے، پشتونخواہ میپ
کوئٹہ ( آئی این پی ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میںفارم47کے غیر نمائندہ صوبائی حکومت کی بجٹ 2025-26کو غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے صوبے کی روزگار بڑھانے والے پیداواری مدات کو نظر انداز کرنے، ایک کھرب کی رقم کو چھپانے اورپیداواری محکمہ جات کے لیے کل بجٹ کا صرف 6فیصد رکھنے اور 6000منظور آسامیوں کو ختم کرنے کے بجٹ سٹیٹمنٹ کو الفاظ وہندسوں کی ہیرا پھیری سے تعبیر کرتے ہوئے پارٹی اس غیر حقیقی اور غیر عوامی بجٹ کو کھلی طور پر مسترد کرتی ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بجٹ کا کل حجم 1028ارب ہے اور غیر ترقیاتی بجٹ 624ارب ہے جو کل بجٹ کا 60.7فیصد بنتا ہے ۔جس میں صوبے کے روزگار کے 6000آسامیوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جو کہ دراصل صوبے کے نادار ، بیروزگار امیداروں کے امیدوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے اور اسی طرح گزشتہ مالی سال کے پوسٹوں پر میرٹ کا دعویٰ از خود جھوٹ کا پلندہ ہے ۔ اور مالی سال کے دوارن تمام پوسٹیں بھاری رشوت پر سال بھر فروخت ہوئی رہی ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے پیداواری مدات جو صوبے کے آمدنی بڑھانے کا ذریعہ ہے کے لیے کل بجٹ کا صرف 6فیصد مختص کیا گیا ہے ، پیداواری مدات میں زراعت ، جنگلات ، مائنز ومنرل، صنعت ، ماہی گیری ، لائیوسٹاک کی طرح اہم اوردیگر پیداواری مدات جو صوبے کی پیداوار بڑھانے کا ذریعہ ہے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے اورفارم47کی حکومت کی یہ نظر اندازی صوبے کو معاشی طور پر خود کفیل بنانے کے خلاف گہری سازش سے تعبیر کرتے ہیں ۔ صوبے میں صنعت نام کی کوئی صنعت موجود نہیں اور اس طرح پانی کی نایابی اور قلت کے خاتمے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے ۔ ماحولیاتی بدترین تبدیلی کے لیے صوبے کے موجودہ قدرتی جنگلات کو بچانے اور محکمہ جنگلات میں لوکل انواع کو لگانے اور فروغ دینے کی منصوبہ بندی موجود نہیں ۔صوبے کے سوشل سیکٹر جس میں صحت اور تعلیم کے فروغ کے لیے کوئی خاطر خواہ منصوبہ موجود نہیں ۔ فارم 47کی حکومت میں دونوں محکمہ جات بربادی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں ۔اور غلط حکومتی ارادوں سے صحت اور تعلیم کو پرائیویٹائزیشن کی جانب لے جانے کی سازش سے عوام کو دونوں محکمہ جات کے سہولیات سے محرومی کا سامنا ہے ۔ اور حالیہ بجٹ میں محرومیوں کے ازالے کی کوئی پالیسی مرتب نہیں کی گئی ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فارم 47کے نام نہاد نمائندوں کی بجٹ ماضی کے پچھلے سال کی بجٹ کی طرح زمین پر ترقی نہیں دیکھی جاسکے گی بلکہ بجٹ نام نہاد نمائندوں اور وزراء کے جیبوں کی ترقی کا ذریعہ ہوگی ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مائنز ومنرلز ڈیپارٹمنٹ کے EL301اور EL304بیرونی سرمایہ کاروں کو الاٹ کرنے کا ذکر ہے ۔ فارم 47کی صوبائی اور مرکزی حکومت کی پالیسی مقامی مالکان کی مرضی اور منشاء کے بغیر ناقابل قبول ہے ۔ صوبے کے قدرتی معدنی خزانوں کو غیروں کے ہاتھوں فروخت کرنے اور اس طرح صوبے کے عوام جو اپنے قدرتی معدنی خزانوں کے مالک ہیں اُنہیں محروم کرنے کی پالیسی سراسر ناانصافی اور زیادتی ہے جوکسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں کی جائیگی ۔


