بلوچستان اور پاکستان ایک ہے فوج جبری گمشدگیوں کی اجازت نہیں دیتی، ترجمان فوج
یہ خیال کہ بلوچستان کے لوگ پاکستان کی مسلح افواج کے ساتھ نہیں ہیں یہ بالکل غلط ہے بلوچستان کے لوگ پاکستان کے ساتھ ہیں یہ حقائق ہیں اور اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیےبلوچستان اور پاکستان کے درمیان کوئی علیحدگی نہیں ہے ایک بلوچی، پنجابی، پختون، کشمیری یا سندھی کے درمیان ہم سب ایک ہیںکسی کے پاس یہ حق نہیں کہ وہ کسی کو لاپتہ کرے،ترجمان فوج
ویب ڈیسک : ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل احمد شریف چودھری نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’جو لوگ سٹریٹجک غلط فہمیوں کے ساتھ بیٹھے ہیں، انھیں اپنا ذہن صاف کرنا چاہیے۔ یہ خیال کہ بلوچستان کے لوگ پاکستان کی مسلح افواج کے ساتھ نہیں ہیں، یہ بالکل غلط ہے۔ بلوچستان کے لوگ پاکستان کے ساتھ ہیں۔ یہ حقائق ہیں اور اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ بلوچستان اور پاکستان ایک ہیں۔ یہ ہمارے سر کا تاج ہے۔ بلوچستان اور پاکستان کے درمیان کوئی علیحدگی نہیں ہے۔ ایک بلوچ، پنجابی، پختون، کشمیری یا سندھی کے درمیان ہم سب ایک ہیں۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ مفروضے ان لوگوں نے پیدا کیے ہیں جو انڈین پیسے سے ملازمت کر رہے ہیں اور یہ الٹے سیدھے آئیڈیاز دے رہے ہیں۔ ’را‘ نے ہزاروں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنائے ہیں جو یورپ میں چل رہے ہیں اور وہ ایک خام خیالی میں رہتے ہیں کہ جیسے بلوچستان میں وسیع پیمانے پر پاکستان مخالف جذبات پائے جاتے ہیں۔ یہ بالکل سچ نہیں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے حملوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’بلوچستان میں جو دہشت گرد کام کر رہے ہیں، وہ کس کو نشانہ بنا رہے ہیں؟ وہ ہم سے براہ راست مقابلے سے گھبراتے ہیں۔ اگر وہ ہمارے سامنے آئیں تو ہم انھیں مار دیتے ہیں۔ وہ گوادر آئے، ہم نے انھیں ختم کر دیا۔ جہاں بھی وہ ہماری پوسٹوں پر حملہ کرنے آتے ہیں، ہم انھیں مار دیتے ہیں۔ وہ کس کو نشانہ بنا رہے ہیں؟ وہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔‘’وہ عوام پر حملہ کر رہے ہیں، بسوں سے لوگوں کو اتار کر قتل کر رہے ہیں۔ وہ آسان اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ کیا ایسی کارروائیاں انھیں عوام میں کوئی عزت دلا رہی ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عوام کہہ رہے ہیں کہ آپ بہت اچھا کام کر رہے ہیں؟ وہ اصل میں کس چیز کو نشانہ بنا رہے ہیں؟ وہ ہر اس چیز پر حملہ کر رہے ہیں جو بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے۔‘ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’پاکستان کی حکومت اور بلوچستان کی حکومت بلوچستان کے لوگوں کی خوشحالی کے لیے مختلف شعبوں میں دن رات کام کر رہی ہیں۔ معدنیات، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کمیشن کام کر رہا ہے، تاہم یہ بھی کہا کہ فوج جبری گمشدگیوں کی اجازت نہیں دیتی۔ان کا کہنا تھا کہ ’سب سے پہلے ہمیں بیانیے، جھوٹ اور سچ میں فرق کرنا ہوگا۔ کیا لاپتہ افراد کا مسئلہ پاکستان میں منفرد ہے؟ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ کیا انڈیا میں لاپتہ افراد ہیں؟ جی ہاں، بہت بڑی تعداد میں، لاکھوں میں۔ کیا برطانیہ میں لاپتہ افراد ہیں؟ جی ہاں۔ کیا امریکہ میں ہیں؟ جی ہاں، وہاں بھی ہیں۔ اب پاکستان میں لاپتہ افراد کے معاملے پر، ایک کمیشن آف انکوائری آن انفورسڈ ڈس اپیرنسز ہے، جو ایک مستقل کمیشن ہے۔ اس کی سربراہی سپریم کورٹ کی سطح کے ایک جج کر رہے ہیں۔ حکومت پاکستان ہر ایک ایک بندے کو تلاش کرنے میں لگی ہوئی ہے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ کہنے کے بعد میں واضح کر دوں کہ کسی کے پاس یہ حق نہیں کہ وہ کسی بھی شخص کو غائب کرے، اس کو اٹھائے اور اس کو حبس بے جا میں رکھے۔ اس کی کوئی قانون اجازت نہیں دیتا۔ ہم سختی سے اس کی ممانعت کرتے ہیں اور جو بھی ذمہ دار ہیں انھیں تلاش کیا جاتا ہے اور انھیں ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔‘
انھوں نے تسلیم کیا کہ لاپتہ افراد کی تعداد پر بحث سے قطعہ نظر، یہ الزام فوج پر آتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’اسی لیے میں کہہ رہا ہوں کہ ایسی صورت میں ایف سی کو اس کی تفتیش کرنا نامناسب ہوتا ہے، کیونکہ ان پر الزام ہے۔ اس لیے ریاست نے ایک مناسب قانونی عمل وضع کیا ہے۔ اس نے ایک ایسا کمیشن بنایا ہے جو بہت آزاد، بااختیار اور خاص طور پر انہی کیسز کی تحقیقات پر مامور ہے۔‘ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ ’میرے کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم تحقیق کریں۔ یہ ادارہ جاتی نظام کی بات ہے۔ میں آپ سے یہ کہہ رہا ہوں کہ کسی بھی فرد کو اس کے گھر سے اٹھانا اور غیر قانونی حراست میں رکھنا بالکل غلط ہے۔ اس کا ایک قانونی عمل ہے۔ کسی بھی فرد کو قانون کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے، اور اگر وہ قصوروار ہے تو قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہیے۔‘انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں قانون کے نظام کو موثر اور بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ جس طرح یورپ میں ہوتا ہے کہ فسادات ہوئے تو ایک ہفتے میں سزا ہوئی لوگوں کو۔‘


