سوات میں سیلابی ریلے میں 17 سیاح بہہ گئے، 4 کو بچایا لیا، غفلت پر اعلیٰ افسران معطل
ویب ڈیسک :دریائے سوات میں بارش کے بعد پانی کا ریلہ 17 افراد کو بہا کر لے گیا، جن میں سے 4 افراد کو بچا لیا گیا۔ سیلابی ریلے میں بہنے والے 9 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ 4 افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بہنے والے 17 افراد خشک ٹیلے پر کھڑے ہو کر ایک گھنٹے تک مدد کے لیے پکارتے رہے، مقامی افراد نے اپنے طور پر کشتی سے کوشش کر کے 4 افراد کو بچایا ہے، بہنے والوں میں سے 10 کا تعلق سیالکوٹ، 6 کا مردان اور 1 کا سوات سے ہے۔ لواحقین نے کہا ہے کہ بہنے والے دریا کے کنارے بیٹھ کر ناشتہ کر رہے تھے، اچانک ریلہ آیا جس کے بعد ان لوگوں نے ایک خشک ٹیلے پر پناہ لی تھی۔ دوسری طرف سوات کی ضلعی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ متاثرہ افراد خود دریائے سوات کے بیڈ میں گئے، ضلعی انتظامیہ نے انہیں روکنے اور بچانے کی کوشش کی تھی۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا سوات سیلابی صورتحال میں غفلت برتنے والے اعلی افسران کو معطل کرنے کا حکم دے دیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر سوات میں سیلابی صورتحال میں غفلت برتنے پر اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی، اسسٹنٹ کمشنر خوازہ خیلہ اور ریسکیو کے ضلعی انچارج کو معطل کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی کو بروقت اقدامات نہ اُٹھانے پر اور اسسٹنٹ کمیشنر خوازہ خیلہ کو حفظ ما تقدم کے طور پر اطلاع نہ دینے پر جب کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمیشنر ریلیف کو بروقت ذمہ داری نہ پوری کرنے پر معطل کیا گیا۔علاوہ ازیں، سیلابی صورتحال میں غفلت برتنے والے افسران کے خلاف انکوائری ہوگی۔واضح رہے کہ دریائے سوات میں سیلاب کے باعث 75 سے زائد افراد بہہ گئے، 58 کو بچا لیا گیا تاہم 10 افراد جان کی بازی ہارگئے اور دیگر کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔


