ایچ ای سی، بلوچستان اور اسٹریکچرل تشدد

سمیع ساسولی

عموماً لوگ تشدد کی صرف ایک قسم سے واقف ہیںجس میں مار دھاڑ، قتل و غارت، جبری گمشدگی وغیرہ شامل ہیں لیکن ناروے سے تعلق رکھنے والے دانشور جان گالٹنگ نے تشدد کی تین اقسام بیان کی ہیں اور یہ کہا ہے کہ تینوں اقسام کی تشدد کا آپس میں چولی دامن کا رشتہ ہے، پہلی تشدد کی قسم جس میں قتل و غارت، جبری گمشدگی وغیرہ شامل ہیں انہیں موصوف نے ڈائریکٹ یا براہ راست کا نام دیا ہے جبکہ دوسری دو اقسام کے تشدد کو انہوں نے اسٹرکچرل اور کلچرل تشدد کا نام دیا ہے۔ ان کے مطابق اسٹرکچرل تشدد کسی بھی لسانی گروہ، طبقے اور جنس کیخلاف انتظامی کارروائی کو کہتے ہیں اور اسے کبھی کبھار انتظامی تشدد کا بھی نام دیا جاتا ہے۔ اس میں کسی مخصوص لسانی گروہ، طبقے اور جنس کو ریاستی اداروں میں کم نمائندگی دی جاتی ہے اور انہیں بنیادی حقوق جس میں تعلیم اور صحت ہوتی ہے ان سے دور رکھا جاتا ہے، اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ متعلقہ گروہ کو سماجی، سیاسی، معاشی اور تعلیمی حوالے سے پسماندہ رکھا جائے۔ اس کی اچھی مثال جنوبی افریقہ میں اپر تائیڈ (Aparthied)کا قانون تھا، جس میں سفید فام نسل کے لوگوں کیلئے الگ رہائشی اسکیمز، الگ اسپتال، انتظامیہ میں اعلیٰ عہدے اور الگ تعلیمی ادارے ہوتے تھے جبکہ سیاہ فام لوگوں کیلئے الگ رہائشی اسکیمز اور الگ تعلیمی ادارے ہوتے تھے، اس کا مقصد سیاہ فام لوگوں کو ہر حوالے سے پسماندہ رکھنا تھا۔ تیسری قسم کو کلچرل تشدد کہتے ہیںاور اکثر کلچرل تشدد کا مقصد اسٹرکچرل تشدد کو جائز قرار دینا ہوتا ہے۔ کلچرل تشدد میں امتیازی سلوک کا شکار طبقہ جب اپنے اوپر امتیازی سلوک کیخلاف سوال اٹھاتا ہے تو انہیں یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ نسلی اعتبار سے کم تر ہیں یا پھر ان کی ثقافت قدامت پسندی پر مبنی ہے اور اسی وجہ سے وہ اہم انتظامی عہدوں اور دیگر شعبوں میں پسماندہ ہیں۔ تینوں اقسام کے تشدد کے آپسی تعلق کو سمجھنے کیلئے افریقہ کی مثال لی جاسکتی ہے، اس براعظم میں ماضی میں یورپ کے مختلف ممالک نے اپنی نوآبادکار کالونیاں قائم کی تھیں، افریقہ پر قبضہ کرنے کیلئے یورپی سماجی طاقتوں نے سب سے پہلے ڈائریکٹ تشدد کا سہارا لیااور اس کے ذریعے انہوں نے افریقہ پر قبضہ کرلیا، اس کے بعد مقامی افراد کیساتھ اسٹرکچرل تشدد کیا اور مقامی افریقیوں کو اہم انتظامی عہدوں سے دور رکھااور انہیں معیاری تعلیم سے بھی دور رکھا گیا۔ اسٹرکچرل تشدد کو جائز قرار دینے کیلئے یورپی سامراجی طاقتوں نے کلچرل تشدد کا سہارا لیا اور یہ مفروضہ دیا کہ یہ سیاہ فام لوگ نسلی اعتبار سے سفید فام لوگوں سے کم تر ہیںاور اپنا انتظامیہ چلانے کے قابل نہیں اور سفید فام لوگوں کی حکومت ان کیلئے ایک نعمت ہے اور وہ انہیں تہذیب یافتہ اور ترقی دینے کیلئے ان کے ملک میں آئے ہیں۔ جدید دور میں تینوں اقسام کی تشدد کا استعمال ترکیہ نے کردوںکیساتھ کیا ہے۔ غیر ترک ہونے کی وجہ سے انہیں ملک میں انتظامی عہدوں اور دوسرے ریاستی اداروں سے دور رکھا گیا ہے، ان کی معاشی اور تعلیمی پوزیشن کمزور کرنے کی بھی کوشش کی گئی ہے جو اسٹرکچرل وائلنس کی عمدہ مثال ہے۔ اس کے بعد کردوں کو کلچرل تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا ہے اور ان کی زبان اور ثقافت کیساتھ حقارت کا اظہار کیا گیا ہے اور سرکاری اداروں میں ان کے ثقافتی لباس اور زبان پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔ جب کردوں نے اس امتیازی سلوک کیخلاف آواز اٹھائی تو ان کیخلاف ڈائریکٹ تشدد کا بھی استعمال کیا گیاجس کے نتیجے میں کرد مسلح تنظیموں نے جنم لیاجس کا ترکیہ کو بہت بڑا نقصان ہوا، ان کی اہم صنعت سیاحت تھی اور مسلح جنگ کی وجہ سے بہت سے سیاحوں نے ترکی کا رخ نہیں کیا۔

بعض ماہر تعلیم نے یہ مفروضہ دیا ہے جسے تشدد کا دائر قرار دیتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر کسی گروہ یا طبقے پر تشدد ہو تو وہ اپنی سکت کے مطابق تشدد کا جواب تشدد سے دیتے ہیںاور متعلقہ ملک میں دو طرفہ تشدد کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، اس کی مثال ترکیہ میں کردوں کی ہے۔ ایک اور مثال مقبوضہ فلسطین ہے جہاں مقامی فلسطینیوں کو اسٹرکچرل تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور انہیں الگ تعلیمی اداروں، رہائشی اسکیمز میں رکھا جارہا ہے اور یہودی آبادکاروں کو الگ رکھا جارہا ہے۔ انہیں ریاستی اداروں سے بھی دور رکھا جارہا ہے اور اس کو جائز قرار دینے کیلئے اسرائیلی قوم پرست کلچرل تشدد کا بھی سہارا لے رہے ہیں اور ان کے مطابق وہ خدا کے پسندیدہ لوگوں میں سے ہیں اور یہ زمین کا ٹکڑا ان کو خدا نے تین سے چار ہزار سال پہلے عطا کیا ہے۔ جب فلسطینی ان دو تشدد کیخلاف احتجاج کرتے ہیں تو ان کیخلاف اسرائیلی سرکار براہ راست بھی تشدد کرتی ہے اور لاکھوں لوگ مارے جاچکے ہیں لیکن مسئلہ پھر بھی ختم نہیں ہوا، اس کے نتیجے میں حماس جیسے مسلح گروہ نے جنم لیا ہے جو تشدد کا جواب تشدد سے دے رہی ہے اور آنے والے دور میں یوں محسوس نہیں ہورہا کہ اسرائیل فلسطین مسئلہ حل ہونے جارہا ہے بلکہ دونوں طرفہ تشدد میں مزید تیزی آئے گی۔ جہاں تک بلوچستان کا تعلق ہے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہاں کے لوگوں کو تینوں اقسام کی تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ریاستی اداروں اور اہم انتظامی عہدوں میں بلوچستان کے لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ تعلیمی شعبوں میں بھی یہ پسماندہ ہیں، جب بلوچ اس اسٹرکچرل تشدد کیخلاف سوال اٹھاتے ہیں تو ملکی میڈیا اور نام نہاد دانشور ان کیساتھ کلچرل تشدد کرتے ہیں اور اس پسماندگی کی وجہ بلوچوں کے قبائلی نظام کو ٹھہراتے ہیں۔ ان کے مطابق بلوچ قدامت پسند ہیں اور ایک قبائلی سردار کے پیرو کار ہیں اور قبائلی سردار ترقی اور تعلیم کیخلاف ہیںاور وہ سرکار کو ترقیاتی کام کرنے کیلئے نہیں چھوڑتے۔ جب بلوچستان کے لوگ ان دو تشدد کیخلاف پھر بھی سوال اٹھاتے ہیں تو مختلف حکومتوں میں ان پر براہ راست تشدد بھی کیا گیا ہے۔ متعدد حکومتوں نے ان زیادتیوں کا ا عتراف کیا ہے اور ان کے ازالے کا بھی وعدہ کیا ہے، اس سلسلے میں سابق صدر آصف علی زرداری نے 2009ءمیں آغاز حقوق بلوچستان پیکج کا اعلان کیا تھا جس کے مطابق بلوچستان کے نوجوانوں کو نوکریاں اور اسکالرز شپس دیے گئے تھے، نوکریوں کے متعلق سینیٹر عبدالشکور اچکزئی یہ کہتے ہیں کہ یہ بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے ایک لولی پاپ تھا اور آغاز حقوق بلوچستان پیکج کے تحت جو نوکریاں ملنے والی تھیں وہ وفاقی حکومت میں بلوچستان کے کوٹے میں ڈال دی گئی ہیںاور جہاں تک اسکالر شپس کا تعلق ہے تو انہیں ایچ ای سی کے زیر انتظام دے دیا گیا تھا۔ سینیٹر دھنیش کمار کے مطابق اس پیکج کے تحت 6 سو طلبہ کو ملکی اور غیر ملکی جامعات میں بھیجا جانا تھا لیکن ایچ ای سی نے 16 سال میں 200 سے بھی کم طلبہ کو بھیجا ہے، لہٰذا یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسٹرکچرل تشدد کے ازالے کے بجائے ایچ ای سی اور وفاقی حکومت پھر سے بلوچستان کے طلبہ کیساتھ خود اسٹرکچرل تشدد کررہی ہیں۔

آغا ز حقوق بلوچستان پیکج میں ایچ ای سی کا بلوچستان کے طلبا کے ساتھ سب سے بڑا اسٹریکچرل تشدد یہ ہے کہ اس کے پروجیکٹ ڈائریکٹر اور دیگر عملے کا تعلق بلوچستان سے نہیں اور اٹھارویں ترمیم کے باوجود بلوچستان کے طلبا کو اپنے مسائل اسلام آباد لے جانا پڑتا ہے جہاں غیر مقامی آغاز حقوق بلوچستان پیکج کا عملہ ان کے ساتھ نا روا سلوک اختیار کرتا ہے میڈیا رپورٹس اور متعدد اسکالرز کے مطابق پروجیکٹ ڈائریکٹر دارا شکو نے متعدد طلبا کے اسکالرشپ بنا کسی قانونی وجوہات منسوخ کئے ہیں متاثر اسکالرز کے مطابق 2019 میں پوری عالمی دنیا کورونا وائرس کی لپیٹ میں تھی تو انہوں نے ایچ ای سی سے یہ مطالبہ کیا کہ کرونا کے باعث انہیں عالمی جامعات میں آن لائن کلاسسز لینے دی جائیں لیکن اس سے دارا شکو نے یہ کہہ کر کے رد کر دیا کہ یہ ایچ ای سی کے پالیسی کے برعکس ہے اور دو ہزار بائیس میں جب کرونا ختم بھی نہیں ہوا تھا موصوف نے اسکالرز کو منسوخی کے لیٹرز تھما دیئے تعجب خیز بات یہ ہے کہ یہ اسکالرشپس2027 میں ختم ہونے والی تھی لیکن اسکالرز کو2022میں ہی منسوخی کے لیٹر ز بھیجوا دیئے گئیں ایک اور تعجب خیز انکشاف یہ ہے کہ ایچ ای سی کے ایک اکاونٹنٹ محمد عبدالقدوس جن کا تعلق سند ھ سے ہیں انہوں نے اپنے اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے متعدد طلبا کے اسکالر شپ منسوخ کردیئے ، جب میڈیا نے دارا شکو سے معلومات طلب کی تو موصوف نے جواب دینے سے صاف انکار کر دیا لگ بھگ ایک سال گز ر گیا قومی اور مقامی میڈیا میں موصوف کے حوالے سے درجنوں رپورٹس شائع ہوئی ہے لیکن وہ اور ان کے اکاونٹنٹ کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے اور وہ ا ب بھی اپنے عہدوں پر براجمان ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ چیئرمین ایچ ای سی بھی دارشکو کیساتھ ایک ہی صف میں کھڑے ہیں اور بلوچستان کے طلبا کیساتھ اسٹر یکچر ل تشدد میں ملوث ہے حال ہی میں بہت سے تعلیم یا فتہ نوجوان عسکریت پسندی کی طرف گئے ہیں جس کااعتراف وزیراعلی سرفراز بگٹی سمیت دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے کیا ہے لیکن کسی نے یہ نہیں سو چا کہ پڑھے لکھے نوجوان عسکر یت پسندی کی طرف کیوں مائل ہورہے ہیں جواب بالکل صاف ہے جب ایچ ای سی جسے اعلیٰ تعلیم کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جب و ہ بلوچستان کے طلبا کیساتھ اسٹر یکچرل تشدد کریگا تو قدرتی عمل ہے کہ نوجوان عسکریت پسندی کی طرف مائل ہونگے اورجان گالٹنگ کی بات درست ثابت ہوگی کہ اسٹریکچر ل تشدد اور براہ راست تشدد کا آپس میں گہراہ تعلق ہے لیکن قومی میڈیا اور نام نہاد دانش ور داراشکو جیسے لوگوں کی اسٹریکچرل تشدد ذکر نہیں کریں گے بلکہ اس شورش کا ذمہ دار قبائلی روایات اور سردار پر ڈالیں گے اور مزید بلوچوں کیساتھ کلچرل تشدد کریں گے اگر غیر جانبدارنہ تجزیہ کیا جائے تو یہ شورش اسٹرکچرل تشدد کے باعث دیر پا وقت تک چلتی جائے گی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں