چین ہمارا آزمایا ہوا دوست ہے ، شاہ محمودقریشی
اسلام آباد ۛوزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ طویل عرصے وزیر خارجہ نہ ہونے سے سفارتی سطح پر اپنا نقطہ نظر پیش نہ کرسکے،بھارت کی پاکستان کو تنہا کر نے کی پالیسی میں ناکامی ہوئی ،پاکستان کامیاب رہا ، چین، نیپال اور بنگلہ دیش اور جنوبی ایشیائی ممالک، بھارت پر سوال اٹھا رہے ہیں ،چین ہمارا آزمایا ہوا دوست ہے جس کے ساتھ ہمارے اسٹریٹیجک شراکت داری رہی ہے ، ترکی کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں ،یورپین یونین پاکستان کا ایک بہت بڑا تجارتی شراکت دار ہے جس کے ساتھ نیا اسٹریٹیجک منصوبہ طے پایا،دنیا نے افغانستان کا فوجی حل تلاش کرنے کے لیے کھربوں ڈالر خرچ کر ڈالے ،بالآخر دنیا عمران خان کے بیان کو مان گئی اور کہا افغانستان کا سیاسی حل ممکن ہے ،دنیا ہمارے نقطہ نظر کو تسلیم اور افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کی معترف ہے،بین الافغان مذاکرات کا جلد اذغاز ہوگا جس سے امن کو فروغ ملے گا،آج کوئی ایسا بین الاقوامی فورم یا موقع نہیں جسے ہم نے کشمیریوں اور پاکستان کے نقطہ نظر کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال نہ کیا ہو،سال میں 3 مرتبہ سلامتی کونسل میں کشمیر کا مسئلہ زیر بحث آیا۔ میڈیا کو وزارت خارجہ کی کارکردگی سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپنی کامیابیوں کو دیکھنے کیلئے دائمی حریف کے اغراض و مقاصد اور اپنی کوششوں کو دیکھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی پالیسی رہی ہے کہ پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار کیا جائے اور ہماری کوشش یہ تھی کہ پاکستان کی مؤثر نمائندگی کریں کیوں کہ گزشتہ ادواروں کے دوران ایک عرصے وزیر خارجہ ہی موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے نبہت سے فورم پر ہمارا نقطہ نظر پیش ہی نہیں ہوپا تھا لہٰذا ہماری کوشش تھی کہ ہمارے دیرینہ تعلقات اور دوستیوں کو نئی جہت دی جائے اور نئے سمجھوتوں کو فروغ دیں جس کی وجہ سے بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی پالیسی میں ناکامی ہوئی اور پاکستان کامیاب رہا اور جنوبی ایشیا کی تمام رکن ممالک بھارت کے توسیع پسندانہ ڈیزائنز پر معترض ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تو کہتا ہی تھا لیکن آج چین بھارت کے توسیع پسندانہ منصوبوں پر سوال اٹھارہا ہے اور لداخ میں جو ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے، اسی طرح نیپال کی پارلیمان سے منظور ہونے والی قراردادیں آپ کے سامنے ہیں، بنگلہ دیش جسے بھارتی کیمپ کا تصور کیا جاتا تھا لیکن جب سے شہریت قانون آیا وہاں ایک سرد مہری دکھائی دے رہی ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چین ہمارا آزمایا ہوا دوست ہے جس کے ساتھ ہمارے اسٹریٹیجک شراکت داری رہی ہے لیکن ہم نے کوشش کی کہ ان اسٹریٹیجک شراکت داری کو معاشی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے کیوں کہ ہم سمجھتے ہیں ہمارا مشترکہ مقصد ہے۔انہوںنے کہاکہ دنیا بدل رہی ہے جس میں ہمیں دیکھنا ہے کہ پاکستان اور چین کے دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم کس طرح کیا جائے اور اس کی ایک زندہ مثال سی پیک 2 ہے جس میں ہم نے واضح اہداف متعین کیے ہیں جس میں صنعتی انقلاب، زرعی پیدوار میں فروغ، تخفیف غربت اور انسانی وسائل کی ترقی شامل ہے۔اسی طرح ترکی کے ساتھ بھی پاکستان کے بہت اچھے تعلقات ہیں جہاں وزیراعظم کے دورے کے موقع پر نیا معاشی اور مالیاتی فریم ورک تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا جس کے تحت تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے اور وہ اب حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یورپین یونین پاکستان کا ایک بہت بڑا تجارتی شراکت دار ہے جس کے ساتھ نیا اسٹریٹیجک منصوبہ طے پایا، علاوہ ازیں افریقہ پر ہماری توجہ نہیں تھی لیکن تعلقات بہت اچھے تھے چنانچہ ہم نے وہاں تجارت اور معاشی سرگرمیاں بڑھانے کی منصوبہ بندی کی۔وزیر خارجہ نے کہا وزیراعظم عمران خان نے پوری ترقی پذیر دنیا کے لیے قرضوں میں ریلیف کا خیال پیش کیا جس پر جی 20 نے کچھ اقدامات کیے اور نیویارک میں ایک پارٹنر شپ تشکیل دی گئی تا کہ ہم مالی اسپیس کے لیے سمجھوتوں کو مزید فروغ دیں۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے کوشش کی کہ اسلامو فوبیا کے حوالے سے مسلمان ملکوں میں انڈراسٹینڈنگ کی جائے تا کہ تمام مسلمان ممالک ایک ساتھ مل کر اسلامو فوبیا کا مقابلہ کریں۔انہوںنے کہاکہ دنیا نے افغانستان کا فوجی حل تلاش کرنے کے لیے کھربوں ڈالر خرچ کر ڈالے لیکن وزیراعظم مسلسل کہتے رہے کہ افغانستان کا صرف سیاسی حل ممکن ہے بالآخر دنیا قائل ہوئی اور آج ساری دنیا ہمارے نقطہ نظر کو تسلیم اور افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کی معترف ہے اور ہم پر امید ہیں کہ بین الافغان مذاکرات کا جلد اذغاز ہوگا جس سے امن کو فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ اتنا ہی پرانا ہے جتنا پاکستان، لیکن اسے عمران خان کی حکومت میں اسے بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا گیا اور آج کوئی ایسا بین الاقوامی فورم یا موقع نہیں جسے ہم نے کشمیریوں اور پاکستان کے نقطہ نظر کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال نہ کیا ہو۔انہوںنے کہاکہ ایک سال میں 3 مرتبہ سلامتی کونسل میں کشمیر کا مسئلہ زیر بحث آیا اور اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کمشنر نے کشمیر پر 2 رپورٹس شائع کیں جس میں بھارت کو بے نقاب کیا گیا ہے، او آئی سی کے 4 اجلاس ہوئے جس میں کشمیر کے مسئلے پر بات ہوئی۔ کشمیر کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کا موازنہ کر لیں، نواز شریف اور آصف علی زرداری کی اقوام متحدہ کا بھی موازنہ کرلیں، عمران خان نے اقوام متحدہ میں کشمیر اشو پر جس طرح بات کی وہ بھی دیکھ لیں، وزیر خارجہ نے کہا کہ ساتھ ہی ہم نے دفتر خارجہ میں کچھ ادارہ جاتی اصلاحات کی ہیں جن میں وزیر خارجہ ایڈوائزری کونسل، اس کا مقصد تھنک ٹیکنکس سے تازہ ان پٹ حاصل کیا جائے اور تجربہ کار سفارتکاروں کو بھی اس سے منسلک کیا جائے۔اس کے ساتھ 24/7 کرائسس منیجمنٹ سیل بنایا گیا جس کے تحت وزارت سمندر پار پاکستانی اور این سی او سی کے تعاون سے 478 پروازوں کے ذریعے 2 لاکھ 14 ہزار پاکستانی جو بیرونِ ملک پھنسے ہوئے تھے انہیں واپس لایا گیا۔علاوہ ازیں پبلک ڈپلومیسی شروع کی گئی جس کے تحت 79 ممالک میں 86 پاکستانیوں کو اعزازات سے نوازا گیا جنہوں نے کووِڈ 19 کے دوران ان معاشروں میں اپنی خدمات پیش کیں اور پاکستان کی ساکھ کو بہتر بنایا، دفتر خارجہ میں اسٹریٹیجک کمیونیکیشن ڈویژن بھی بنایا گیا ہے تا کہ پاکستان کے بیانیے کی ترویج دی جائے۔علاوہ ازیں اسٹیٹ آف دی آرٹ فارن سروس اکیڈمی بنائی گئی جس کا نیا نصاب ترتیب دیا گیا اور اسے چین کے پرانے سفارتخانے میں منتقل کیا گیا جو ہمیں تحفے میں دیا گیا ہے اور اربوں روپے کی جائیداد ہے۔مزید برآں ای ویزا سہولت اور ایف ڈائریکٹ ایپ بنائی گئی جس کے ذریعے جونیئر، سینئر کوئی بھی افسر سرخ فیتے کو کاٹ کر مجھ سے براہ راست اپنا ان پٹ شیئر کرسکتا ہے۔


