برطانیہ کی جانب سے باضابطہ ریاست تسلیم کیے جانے کے بعد سفارت خانے پر فلسطین کا پرچم لہرادیا گیا

پرچم کشائی کی تقریب فلسطینی مشین کے باہر ہوئی جسے اب سفارتخانے کا درجہ دے دیا گیا ہے۔

اس موقع پر برطانیہ میں فلسطینی سفیر حسام زملوط نے کہا کہ’ براہِ کرم میرے ساتھ شامل ہوکر فلسطین کا پرچم بلند کریں، جس کے رنگ ہماری قوم کی نمائندگی کرتے ہیں: سیاہ ہمارے سوگ کے لیے، سفید ہماری امید کے لیے، سبز ہماری زمین کے لیے اور سرخ ہماری قوم کی قربانیوں کے لیے۔’انہوں نے مزید کہا کہ’ ہم یہ پرچم فلسطینی عوام کے آزادی اور انصاف کی طویل جدوجہد کے اعزاز میں اور برطانیہ اور دنیا بھر کے ان لاکھوں لوگوں کے اعزاز میں بلند کرتے ہیں جو آزادی سے محبت کرتے ہیں۔’اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ’ ہم یہ پرچم اس عہد کے طور پر بلند کرتے ہیں کہ فلسطین زندہ رہے گا، فلسطین ابھرے گا اور فلسطین آزاد ہوگا۔’

متعدد عالمی حکام ان ممالک کے ردعمل میں اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے کے انضمام کے پھیلاو¿ سے خبردار کر رہے ہیں جنہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے۔اس سلسلے میں اب جرمن حکومت کے ترجمان نے بھی شامل ہوتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی سرزمین کا مزید انضمام نہیں ہونا چاہیے۔یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل کے دائیں بازو کے انتہا پسند قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے کہا ہے کہ وہ کینیڈا، برطانیہ اور آسٹریلیا کی جانب سے فلسطین کو ریاست تسلیم کیے جانے کے بعد اگلی کابینہ میٹنگ میں فلسطینی علاقے کے انضمام کا معاملہ اٹھائیں گے۔اور اس ماہ کے اوائل میں وزیر خزانہ بیزلیل اسموٹریچ نے مغربی کنارے کے 82 فیصد علاقے کے انضمام کی تجویز پیش کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں