راولپنڈی، انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے علیمہ خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے

راولپنڈی (آن لائن) انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت نے تحریک انصاف کے 26 نومبر کے احتجاج پر تھانہ صادق آباد کے مقدمہ نامزد سابق چیئرمین کی ہمشیرہ علیمہ خانم کی حاضری استثنیٰ کی درخواست خارج کرتے ہوئے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے ہیں جبکہ سابق چیئرمین کے خلاف 7 مقدمات میں ضمانت کی درخواست کی سماعت ملزم کے وکیل کی جانب سے مہلت کی استدعا پر 16 اکتوبر تک ملتوی کردی عدالت نے سینیٹر اعظم سواتی کی عبوری ضمانت میں 28 اکتوبر تک توسیع کردی ہے گزشتہ روز علیمہ خانم اور دیگر رہنما¶ں کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر تھانہ صادق آباد میں درج مقدمے کی سماعت کے موقع پر عاطف ریاض سمیت 10 ملزمان عدالت میں موجود تھے جبکہ علیمہ خانم کی جانب سے فیصل ملک اور غلام مرتضیٰ حسنین سنبل ایڈووکیٹ نے حاضری معافی کی درخواست دائر کر دی جس پر پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے علیمہ خانم کی حاضری معافی کی درخواست پر اعتراض اٹھاتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ دونوں وکلا کے ٹرائل میں وکالت نامے موجود نہیں اور وکالت نامے کے بغیر وکلاءاپنے کونسل کی نمائندگی نہیں کر سکتے وکلاءکی جانب سے ایک بوگس درخواست عدالت میں جمع کروائی گئی حالانکہ وکلا کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ وہ علیمہ خانم کی جانب سے درخواست دائر کریں جس پر عدالت نے علیمہ خانم کی حاضری معافی کی درخواست خارج کرتے ہوئے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے اور مقدمہ کی سماعت 11 اکتوبر تک ملتوی کردی اسی طرح سابق چیئرمین کے خلاف 28 ستمبر اور 5 اکتوبر کے احتجاج پر درج 7 مقدمات میں درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران ملزم کے وکیل حسنین سنبل نے عدالت سے تیاری کیلئے مزید مہلت مانگ لی عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 16 اکتوبر تک ملتوی کردی دریں اثنا سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر تھانہ صدر حسن ابدال میں درج 2 مقدمات میں اعظم سواتی نے گواہان کی انسپیکشن کرنے کی اجازت اور بیانات کی نقول فراہم کرنے کی درخواست دائر کی جس پر پراسیکوٹر ظہیر شاہ بے گواہان کی انسپیکشن اور بیانات کی نقول کی فراہمی کی مخالفت میں موقف اختیار کیا کہ سیکشن 265 سی ضابطہ فوجداری کے تحت ملزم کو ٹرائل شروع ہونے سے قبل کوئی دستاویز فراہم نہیں کی جاسکتی مقدمے کا چالان جمع ہونے کے بعد ملزم کو نقول فراہم کی جاتی ہیں لہٰذا ملزم عبوری ضمانت پر ہو تو اسے شہادت استغاثہ کی انسپیکشن یا نقول فراہم نہیں کی جاسکتی عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اعظم سواتی کی درخواست خارج کرتے ہوئے عبوری ضمانت میں 28 اکتوبر تک توسیع کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں