ٹی ایل پی کا دھرنا تیسرے روز بھی جاری، جڑواں شہروں میں متعدد سڑکیں بند، لوگوں کو پریشانی کا سامنا
اسلام آباد (انتخاب نیوز) تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے مظاہرین مریدکے اور سادھوکے میں مسلسل تیسرے روز دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے اسلام آباد پہنچنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک روز قبل ٹی ایل پی کا مرکزی جلوس پولیس کی سیکیورٹی رکاوٹوں کو توڑ کر مریدکے پہنچ گیا تھا، اس سے چند گھنٹے قبل لاہور میں ہونے والے پرتشدد تصادم میں پولیس کے درجنوں اہلکار زخمی ہوئے تھے، جلوس کے شرکا نے بعد ازاں مریدکے میں دھرنا دے دیا، جب کہ جی ٹی روڈ کے کنارے کھودی گئی خندقوں نے ان کا راستہ روک رکھا ہے۔ ٹی ایل پی کے ترجمان عثمان نوشاہی نے بتایا کہ مظاہرین مریدکے اور سادھوکے میں موجود ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہم ابھی آگے نہیں بڑھے۔ دوسری جانب، وفاقی حکومت نے 1200 سے زائد نیم فوجی اہلکار پنجاب بھیجے ہیں، تاکہ مظاہرین کو روکا جا سکے، جو لاہور سے جی ٹی روڈ کے راستے اسلام آباد کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ روز پولیس نے بتایا کہ 300 افراد کا ایک گروہ، جو ٹی ایل پی کے جھنڈے، پوسٹرز اور بینرز اٹھائے ہوئے تھا، ڈھوک عباسی اور آس پاس کے علاقوں سے جلوس کی شکل میں چوک پر پہنچا تھا۔ ریلی کے شرکا نے حکومت مخالف نعرے لگائے اور تقریریں کیں، لوگوں کو ٹی ایل پی کے احتجاج میں شامل ہونے پر اکسایا۔ مظاہرین نے جی ٹی روڈ بند کر دی اور پولیس کی درخواست کے باوجود راستہ صاف کرنے سے انکار کر دیا تھا، جواباً پولیس نے طاقت کا استعمال کیا، 90 مظاہرین کو گرفتار کر لیا اور ساو¿نڈ سسٹم قبضے میں لے لیا، جبکہ دیگر افراد فرار ہو گئے تھے۔ علاوہ ازیں مذہبی جماعت کے احتجاج کے باعث وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں بند کی گئی سڑکوں میں سے کچھ سڑکوں کو کھول دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق احتجاج کے پیش نظر دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کی شاہراہوں پر تاحال کنٹینرز کھڑے ہیں عوام کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے جڑواںشہروں کی کچھ اہم سڑکوں کو جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے۔ راولپنڈی میں اندرون شہر رہائشی علاقوں کو جانے والے راستے ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے ہیں جبکہ مری روڈ سے ملحقہ علاقوں کی گلیوں سے رکاوٹیں بھی ہٹا دی گئی ہیں۔ اسلام آباد ایکسپریس وے اور نائنتھ ایونیو سے ڈبل روڈ کو ملانے والا راستہ بھی جزوی طور پر ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے تاہم آئی جی پی روڈ اور راولپنڈی، اسلام آباد کو ملانے والا فیض آباد انٹرچینج تاحال سیل ہے۔ موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ ایم 2 موٹروے لاہور تا اسلام آباد ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہے اور ٹریفک کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔ ٹریفک پولیس نے راستوں کے حوالے سے نیا پلان جاری کرتے ہوئے بتایاکہ راولپنڈی کے43 مقامات میں سے 6 کو مکمل اور 35 مقامات کوجزوی طور پرکھول دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس اور لوکل ٹرانسپورٹ تاحال بند ہے جس کے باعث ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کا رش بڑھ گیا ہے۔ گزشہ روز جڑواں شہروں میں مختلف مقامات پر شہریوں اور پولیس اہلکاروں میں تلخ کلامی کے واقعات بھی پیش آئے، سڑکوں پر ایمبولینسیں پھنس گئیں اور مریضوں کے گھر والے راستہ مانگتے رہے، ایک بچے کی والدہ رو رو کر دہائی دیتی رہیں لیکن اسے اسپتال تک رسائی نہ ملی جبکہ حالت خراب ہونے پر ایک ضعیف مریض کو ایمبولینس میں ہی ڈرپ لگائی گئی۔


