حکومت ہر وقت عوام کی خدمت کے لیے موجود، قبائل کا تعاون امن و ترقی کے لیے ضروری ہے، سرفراز بگٹی کا لورلائی میں جرگے سے خطاب

کوئٹہ(این این آئی)عوامی مسائل کے حل اور براہِ راست عوامی رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے لورالائی کینٹ میں ایک اہم گرینڈ جرگے کا انعقاد کیا گیا۔ جرگے میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، کور کمانڈر راحت سلیم، آئی ایف سی نارتھ کے میجر جنرل عاطف مصطفیٰ، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، مشیر جنگلات سردار مسعود علی خان لونی، کمشنر لورالائی ڈویڑن ولی محمد بڑیچ، ڈی آئی جی لورالائی جنید احمد شیخ، ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ، ایس ایس پی لورالائی ملک اصغر، ایس پی بارکھان سعد آفریدی اور تینوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز سمیت تمام ضلعی محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔جرگے میں قبائلی عمائدین، سردار گل محمد جوگیزئی، سردار معصوم خان ترین، سردار انور خان ناصر، ملک نور اللہ شبوزئی، ملک امان اللہ ناصر، خواتین، طلبائ، شہریوں، سماجی شخصیات اور صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مہمانوں کو قبائلی روایتی پگڑیاں پہنا کر خوش آمدید کہا گیا۔شرکاءنے اپنے مسائل نہ صرف زبانی پیش کیے بلکہ متعدد درخواستیں تحریری طور پر بھی جمع کرائیں۔ نمایاں عوامی مسائل میں امن و امان، بجلی کی فراہمی، پینے کے صاف پانی کی قلت، مرکزی و رابطہ سڑکوں کی خستہ حالی، تعلیم و صحت کے مسائل، ٹیچنگ ہسپتال کو فعال بنانے، ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباو¿ اور صفائی ستھرائی کی صورتحال شامل رہے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی، کور کمانڈر راحت سلیم اور گورنر بلوچستان نے مشترکہ خطاب میں کہا کہ جرگے کا مقصد عوام کے مسائل کو براہِ راست سننا، ان کا جائزہ لینا اور پائیدار حل کے لیے عملی اقدامات کرنا ہے۔وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ وہ تمام مسائل جو ضلعی انتظامیہ کے اختیار میں آتے ہیں انہیں اسی جرگے کی سطح پر فوری حل کیا جائے گا جبکہ دیگر مسائل کو اعلیٰ سطح پر پیش کر کے مستقل حل نکالا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ لورالائی ڈویڑن میں تمام محکمے فعال ہیں اور بی ایس ڈی آئی پروگرام کے تحت ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ یہ حکومت کا ساتواں گرینڈ جرگہ ہے جبکہ آٹھواں جرگہ نصیرآباد ڈویڑن میں منعقد کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ کوئی بھی سرکاری اہلکار عوامی خدمت میں غفلت برداشت نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں کہ آپ صرف جرگے میں ہی مسائل پیش کریں، حکومت ہر وقت عوام کی خدمت کے لیے موجود ہے۔دہشتگردی اور پاپی کی کاشت کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان میں دونوں کیلئے زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاپی میں ملوث افراد کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کیا جائے گا.ان کی زمینیں بحقِ سرکار ضبط ہوں گی ملی بھگت کا دور ختم ہو چکا ہے.دہشتگردوں کا کوئی مذہب یا مقصد نہیں، وہ معاشرے کے لیے ناسور ہیںوزیراعلیٰ نے کہا کہ قبائل کا تعاون امن و ترقی کے لیے ضروری ہے،ہم ایک ہیں اور انشاء اللہ ایک ہو کر دشمن کو شکست دیں گے۔آخر میں انہوں نے قبائلی عمائدین، خواتین، نوجوانوں، ضلعی افسران اور تمام شہریوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کا نوجوان طبقہ ہماری اصل قوت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں